گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں (ناصر کاظمی)
گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں فرصتِ شوق بن گئی دیوار اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں ہوش کی تلخیاں مٹیں کیسے جتنی پیتا ہوں اتنا نشّہ نہیں دل کی گہرائیوں میں ڈوب کے دیکھ کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر سننے والوں …