کارِ دنیا سے فرومایہ محبت نکلی (شہریار)

کارِ دنیا سے فرومایہ محبت نکلی اہلِ دل میں بھی بہت جینے کی حسرت نکلی تم کہو زیست کو کس رنگ میں دیکھا تم نے زندگی اپنی تو خوابوں کی امانت نکلی پھر کوئی منزلِ بے نام بلاتی ہے ہمیں رہنمائی کے لئے دھوپ کی شدت نکلی پاس کی چیزوں پہ دوری کے دھندلکے چھائے …

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے؟ (شہریار)

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے؟ اِس شہرمیں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے؟ دل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے پھر کی طرح بے حس و بے جان سا کیوں ہے؟ تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو؟ تا حدِ نظر ایک بیابان سا کیوں ہے؟ کیا کوئی نئی …

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے (شہریار)

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیارِ شب سے سر برہنہ کوئی پرچھائی نکلتی کیوں ہے مجھ  کو اپنا نہ کہا اس کا گلہ تجھ سے نہیں اس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے تجھ سے …

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو! (شہریار)

!عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو !میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو ہر ایک نقش تمنا کا ہو گیا دھندلا ہر ایک زخم مِرے دل کا بھر گیا یارو! وہ کون تھا ؟ وہ کہاں کا تھا ؟ کیا ہوا تھا اسے؟ سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو؟

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں (شہریار)

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں سُرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں دن ڈھلے یوں تیری آواز بلاتی ہے ہمیں! یاد تیری کبھی دستک کبھی خاموشی سے رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں! ہر ملاقات کا انجام جدائی …

دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے (شہریار)

دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے نوکِ خنجر ہی بتائے گی کہ خون کتنا ہے آندھیاں آئیں توسب لوگوں کو معلوم ہوا پرچمِ خواب زمانے میں نگوں کتنا ہے جمع کرتے رہے جو اپنے آپ کو ذرہ ذرہ وہ یہ کیا جانیں بھکرنے میں فسوں کتنا ہے وہ جو پیاسے تھے …

خموش رہنا ہے اے اہلِ درد یوں کب تک (شہریار)

خموش رہنا ہے اے اہلِ درد یوں کب تک رگِ گلو میں چبھی گی یہ موجِ خوں کب تک بہت دنوں سے گزرگاہِ خواب سونی ہے سرائے شام ! یہاں اور میں رکوں کب تک کسی نے کھول دیئے بادبان یادوں کے تجھے پکاروں کہاں صدائیں دوں کب تک ہر ایک شخص پہ تیرا گمان …

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا (شہریار)

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا دیکھنے کے لئے اک چہرہ بہت ہوتا ہے آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا میری تنہائی کی رسوائی کی منزل ہے وصل کے لمحے سے میں ہجر کی شب دیکھوں گا شام ہوتی ہے کھلی سڑکوں …