کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے (امجد اسلام امجد)

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے نہ یہ سمجھو کہ اس کو غم نہیں ہے سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے سمجھ میں نہیں آتا کسی کی اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے یہ بستی ہے ستم …

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بےقرار کیا (جوش ملیح آبادی)

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بےقرار کیا! بس اب تمہیں پہ چلو ہم نے انحصار کیا تمہارا ذکر نہیں ہے تمہارا نام نہیں کیا نصیب کا شکوہ ہزار بار کیا ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا جب اس نے وعدہ کیا، ہم نے اعتبار کیا مال ہم نے دیکھا جو …

کیوں نہ ہم عہدِ رفاقت کو بھلانے لگ جائیں (احمد فراز)

کیوں نہ ہم عہدِ رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں یہی ناصح! جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ …

مجھ سے بچھڑ کے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے (محسن نقوی)

مجھ سے بچھڑ کے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختمِ وصل کا لمحہ ہے، رائیگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ …

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو (میاں داد خان سیاح)

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو جاں بلب دیکھ کے مجھ کو مرے عیسیٰ نے کہا لا دوا درد ہے یہ، کیا کروں مر جانے دو لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلا مئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو ٹھہرو! …

اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا (بشیر بدر)

اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا ہزاروں جگنوؤں سے بھی اندھیرا کم نہیں ہوتا کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا بہت سے لوگ دل کو اس طرح محفوظ رکھتے ہیں کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا بچھڑتے …

میں نے ہر چند غمِ عشق کو کھونا چاہا (ساحر لدھیانوی)

ناکامی میں نے ہر چند غمِ عشق کو کھونا چاہا غمِ الفت غمِ دنیا میں سمونا چاہا وہی افسانے مری سمت رواں ہے اب تک وہی شعلے مرے سینے میں نہاں ہیں اب تک وہی بے سود خلش ہے مرے سینے میں ہنوز وہی بیکار تمنائیں جواں ہیں اب تک وہی گیسو مری راتوں پہ …

کیا صبا کوچئہ دلدار سے تو آتی ہے (داغ دہلوی)

کیا صبا کوچئہ دلدار سے تو آتی ہے مجھ کو اپنے دلِ گم گشتہ کی بو آتی ہے صاف ہے سینہ ہمارا کہ دل ہے نہ جگر کیا صفائی تجھے اے آئینہ رو آتی ہے نہ کیا تو نے کبھی غیر کا شکوہ ہم سے بات کہنے ہی میں اے عربدہ جو آتی ہے ہو …

رُخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا (انور مرزا پوری)

رُخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا! بس ابھی رنگِ محفل بدل جائے گا ہے جو بے ہوش وہ ہوش میں آئے گا، گرنے والا ہے جو وہ سنبھل جائے گا لوگ سمجھے تھے یہ، انقلاب آتے ہی، نظمِ کہنہ چمن کا بدل جائے گا یہ خبر کس کو تھی آتشِ گل سے ہی، تنکا …

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے (انور مرزا پوری)

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے نہ جُھکاو تم نگاہیں کہیں رات ڈھل نہ جائے ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی تیرا رِند گِرتے گِرتے کہیں پِھر سنبھل نہ جائے میری زندگی کے مالک میرے دل پہ ہاتھ رکھنا تیرے آنے کی خوشی میں میرا دَم نکل …