جس میں وہ جلوہ نما تھا دلِ شیدا ہے وہی (بیخود دہلوی)
جس میں وہ جلوہ نما تھا دلِ شیدا ہے وہی ہم سے پردہ ہے مگر محملِ لیلا ہے وہی جو نکل جائے تمنا نہیں کہتے اس کو جو کھنکتی رہے پہلو میں تمنا ہے وہی لے چلے دل میں تِرا داغِ محبت واے جان دے کر جو خریدا ہے یہ سودا ہے وہی عشق کو …