Category «شاعری»

نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے (داغ دہلوی)

نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے جو یہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے تمنا وصل کی اک رات میں کیا اے صنم نکلے قیامت تک یہ نکلے گر نہایت کم سے کم نکلے مرے دل سے کوئی پوچھے شبِ فرقت کی بیتابی یہی فریاد تھی لب …

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو (قمر جلالوی)

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤگے کہو …

توبہ کیجئے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا (قمر جلالوی)

توبہ کیجئے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا خود سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا بات پہنچے گی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا کل بہار آئے سن کر قفس بدلو نہ تم رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا اے دلِ …

ہر ذرۃ امید سے خوشبو نکل آئے (نوشی گیلانی)

ہر ذرۃ امید سے خوشبو نکل آئے تنہائی کے صحرا سے اگر تو نکل آئے کیسا لگے اس بار اگر موسمِ گل میں تتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے پھر دن تری یاد کی منڈیروں پہ گزرا پھر شام ہوئی آنکھ سے آنسو نکل آئے بے چین کئے رہتا ہے دھڑکا یہی جی …

کون روک سکتا ہے (نوشی گیلانی)

لاکھ ضبطِ خواہش کے بے شمار دعوے ہوں اس کو بھول جانے کے بے پنہ ارادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اس کی آہٹ پر برملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے پھر وفا کے صحرا میں اس کے نرم لہجے …

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو کیا خبر (قمر جلالوی)

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو کیا خبر  کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے …

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں (قمر جلالوی)

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اتھ کر آ نہ سکے دو …

یہ گنجِ آب تو ہے فقط زائرین کے لیے (افضل خان)

یہ گنجِ آب تو ہے فقط زائرین کے لیے سمجھ سکو تو گھاؤ ہے کنواں زمیں کے لیے پلٹ کے تیرے پاس آگیا ہوں اے اجاڑ دشت کسی بھی دل میں جا نہیں ترے مکین کے لیے رگوں میں اب جو لہر ہے وہ خوں نہیں ہے زہر ہے ضروری ہو چکے ہیں سانپ آستین …

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو (افضل خان)

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہلِ زباں، کیسے ہو آنکھ …

وصل کا شکریہ مگر دل کو ملال اور تھا (افضل خان)

وصل کا شکریہ مگر دل کو ملال اور تھا تیرا جواب اور ہے میرا سوال اور تھا گردشِ روزگار میں آنے کے ہم نہیں میاں عشق کی بات چھوڑیئے عشق کا جال اور تھا دفعتاً ایک لہر پاؤں ہمارے پڑ گئی گھاٹ سے لوٹ آئے ہیں ورنہ خیال اور تھا شہر کے عین وسط میں …