Category «شاعری»

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے (افضل خان)

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے ورنہ رہگیر کو جانے کی اجازت دی جائے اس قدر ضبط مری جان بھی لے سکتا ہے کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے کارِ دنیا مجھے مجنوں نہیں بننا لیکن عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے پھر نہیں ہوگا مرا شہرِ خموشاں …

اس نے جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن (محسن نقوی)

اس نے جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن میں نے تب تب یہ بتایا کہ تمہارا محسن لوگ صدیوں کی خطاؤں پہ بھی خوش بستے ہیں ہم کو لمحوں کی وفاؤں نے اجاڑا محسن جب ہو گیا یقیں کہ وہ پلٹ کر نہیں آئے گا غم اور آنسو نے دیا دل کو سہارا محسن …

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا (جمال احسانی)

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا جانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کے لے جا مجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے …

دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر (عبد الحمید عدم)

دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر میں غور کر رہا ہوں کسی اور بات پر دیکھا ہے جو مسکرا کے اس مہ جبیں نے جوبن سا آگیا ہے ذرا واقعات پر دیتے ہیں حکم خود ہی مجھے بولنے کا آپ پھر ٹوکتے ہیں آپ مجھے بات بات پر میں جانتا تھا تم بڑے …

لمحے لمحے کی نارسائی ہے (جون ایلیا)

لمحے لمحے کی نارسائی ہے زندگی حالتِ جدائی ہے مردِ میداں ہوں اپنی ذات کا میں میں نے سب سے شکست کھائی ہے اک عجب حال ہے کہ اب اس کو یاد کرنا بھی بے وفائی ہے اب یہ صورت ہے جانِ جاں کے تجھے بھولنے میں ہی میری بھلائی ہے خود کو بھولا ہوں …

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے (حفیظ جالندھری)

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے آغازِ مصیبت ہوتا ہے اپنے ہی دل کی شامت سے آنکھوں میں پھول کھلاتا ہے تلووں میں کانٹے چبھوتا ہے احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن …

دوستوں کے نام یاد آنے لگے (عبد الحمید عدم)

دوستوں کے نام یاد آنے لگے تلخ و شیریں جام یاد آنے لگے وقت جوں جوں رائیگاں ہوتا گیا زندگی کو کام یاد آنے لگے پھر خیال اتے ہی شامِ ہجر کا مرمریں اجسام یاد آنے لگے خوبصورت تہمتیں چبھنے لگیں دلنشیں الزام یاد آنے لگے بھولنا چاہا تھا ان کو اے عدم پھر وہ …

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے (خمار بارہ بنکوی)

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو جاؤ اب کرو آرام ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے جی تو ہلکا ہوا مگر یارو رو کے ہم لطفِ غم گنوا بیٹھے بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا …

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے (عبد الحمید عدم)

مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے نگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے جرم کا عزم پنپتا نظر نہیں آتا کہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے فقیہِ شہر کو جب کوئی مشغلہ نہ ملے تو نیک بخت گلے میرے آن پرتا ہے ہمیں خبر ہے حصولِ مراد سے پہلے خراب ہونا …

قاتل کا وار جب تنِ بسمل پہ چل گیا (منشی محمد حبیب احمد)

قاتل کا وار جب  تنِ بسمل پہ چل گیا خنجر کے ساتھ دم بھی تڑپ کر نکل گیا جادو نگاہِ یار کا جب مجھ پہ چل گیا رنگت نکھر گئی مرا چہرہ بدل گیا جلوے کی ہٹ کلیم نے کی تھی وہ بچ رہے حیرت یہ ہو رہی ہے کہ کیوں طور جل گیا بازارِ …