Category «شاعری»

گُل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی (میرزا محمد رفیع سودا)

گُل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو اِدھر بھی   کیا ضد ہے خدا جانے مجھ ساتھ وگرنہ کافی ہے تسلی کو مِری ایک نظر بھی   کس ہستئی موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار کچھ اپنے شب و و روز کی  ہے  تجھ کو …

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا (میرزا رفیع سودا)

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا سرگرمِ نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب مت آشیانہ چمن میں مرے متصِل بنا جب تیشہ کوہکن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سِل بنا جس تیرگی سے …

حالتِ دل کے سبب، حالتِ حال بھی گئی (جون ایلیا)

حالتِ دل کے سبب، حالتِ حال بھی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی بعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماں یاد رہی تری  یہاں ، پھر تری یاد بھی …

اے پھول صبا ہمیشہ مہکائے تجھے (جوش ملیح ابادی)

اے پھول صبا ہمیشہ مہکائے تجھے اے چاند کبھی گھٹا نہ سنولائے تجھے اس نیند بھرے لوچ سے لِلہ نہ چل ڈرتا ہوں کہیں نظر نہ لگ جائے تجھے غنچے ! تری زندگی پہ دل ہلتا ہے بس ایک تبسم کے لیے کھلتا ہے غنچے نے کہا کہ اس چمن میں بابا یہ ایک تبسم …

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے (اطہر نفیس)

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے کس کے لیے یہ حال ہے اس کا کون ایسا ہرجائی ہے کس کے لیے پھرتا ہے اکیلا شہر کے ہنگاموں سے دور کون ہے جس کی خاطر اس کو تنہائی راس آئی ہے کس کے لب و رخسار کی باتیں ڈھل جاتی ہیں غزلوں میں …

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جوان کر لوں (اختر شیرانی)

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جوان کر لوں یہ شرمیلی نطر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں بہار آئی ہے بلبل دردِ دل کہتی ہے  پھولوں سے کہو تو میں بھی اپنا دردِ دل تم سے بیاں کر لوں ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں حیا اُن کی اجازت دے تو …

اک چنبیلی کے منڈوے تلے (مخدوم محی الدین)

چارہ گر   اک چنبیلی کے منڈوے تلے میکدے سے ذرا دور اس موڑ پر دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے   پیار ، حرفِ وفا پیار، ان کا خدا پیار، ان کی چتا   دوبدن پیار کی آگ میں جل گئے اوس میں بھیگتے، چاندنی میں نہاتے جیسے دو تازہ رو، تازہ دم …

اے دورِِ کور پرور (مصطفیٰ زیدی)

اب وہ خوشی ہے نہ وہ غم خنداں ہیں اب نہ گریاں کِس کِس کو رو چکے ہیں اے حادثاتِ دوراں   ترتیبِ زندگی نے دنیا اجاڑ دی ہے اے چشمِ لااُبالی اے گیسوئے پریشاں   دن رات کا تسلسل بے ربط ہو چکا ہے اب ہم ہیں اور خموشی یا وحشتِ غزالاں   یا …

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غمِ جاناں کے چلن (مصطفیٰ زیدی)

    غمِ دوراں نے بھی سیکھے غمِ جاناں کے چلن وُہی سوچی ہوئی چالیں وُہی بے ساختہ پن وُہی اِقرار میں اِنکار کے لاکھوں پہلو وُہی ہونٹوں پہ تبسم وُہی ابرو پہ شکن کِس کو دیکھا ہے کہ پندارِ نظر کے باوصف ایک لمحے کے لئے رک گئی دل کی دھڑکن کون سے فصل میں …