Category «شاعری»

اور بھی دورِ فلک ہیں ابھی آنے والے (اکبر الہ آبادی)

اور بھی دورِ فلک ہیں ابھی آنے والے ناز اتنا نہ کریں ہم کو مٹانے والے اٹھتے جاتے ہیں اب اس بزم سے اربابِ نظر گھٹتے جاتے ہیں مرے دل کے بڑھانے والے خاتمہ عیش کا حسرت ہی پہ ہوتے دیکھا رو ہی کے اٹھتے ہیں اس بزم سے گانے والے حدِ ادراک میں داخل …

آہ جو دل سے نکالی جائے گی (اکبر الہ آبادی)

آہ جو دل سے نکالی جائے گی کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی اس نزاکت پر یہ شمشیرِ جفا آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی زندگی کی کَل ہے پیچیدہ تو خیر سانس لے لے کے چلا لی جائے گی شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا احتیاطاً کچھ منگا لی جائے …

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے (اکبر الہ آبادی)

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے ناتجربہ کاری سے واعظ کی ہیں یہ باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے اے شوق وہی مے پی، اے ہوش ذرا سو جا مہمانِ نظر اس دم اک برقِ تجلی ہے …

ہوا ہے بیخودی کے کوچے میں جب سے گزر اپنا (اکبر الہ آبادی)

ہوا ہے بیخودی کے کوچے میں جب سے گزر اپنا نگاہِ شوق سے میں خود ہوں منظورِ نظر اپنا تردد کچھ نہیں ایذا دہندوں کو رسائی میں تمنا بے تکلف دل میں کر لیتی ہے گھر اپنا حباب آسا اٹھایا بحرِ ہستی میں جو سر اپنا بنایا بس وہیں موجِ فنا نے ہمسفر اپنا عروجِ …

اس کی خوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے (اقبال اشعر)

اس کی خوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے نام کا نام ہے رسوائی کی رسوائی ہے دل ہے اک اور دو عالم کا تمنائی ہے دوست کا دوست ہے، ہرجائی کا ہرجائی ہے ہجر کی رات ہے اور ان کے تصور کا چراغ بزم کی بزم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے کون سے نام …

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا (افتخار نسیم)

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا جس گھڑی آایا پلٹ کر اک میرا بچھڑا ہوا عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شاہزادہ لگا ہر گھڑی تیار ہے دل جاں دینے کے لیے اس نے پوچھا بھی نہیں یہ پھر بھی آمادہ لگا …

یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں (آغا نثار)

یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں ہم اک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں وہ اک رنگ مکمل ہو جس سے تیرا وجود وہ رنگ ہم تیری شاخ میں بھرنے آئے ہیں ٹھٹھر نہ جائیں ہم اس عجز کی بلندی پر ہم اپنی سطح سے نیچے اترنے آئے ہیں لگا رہے ہیں ابھی …

خدا کا شکر سہارے بغیر بیت گئی (انور شعور)

خدا کا شکر سہارے بغیر بیت گئی ہماری عمر تمہارے بغیر بیت گئی ہوئی نہ شمع فروزاں کوئی اندھیرے میں شبِ فراق ستارے بغیر بیت گئی وہ زندگی جو گزارے نہیں گزرتی تھی تیرے طفیل گزارے بغیر گزر گئی شعور تیز رہی زندگی کی دوڑ اتنی کہ ہار جیت شمارے بغیر گزر گئی

اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں (آنس معین)

اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں مقتل میں ہیں جینے کی سزا دیں تو کسے دیں پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے اس شہرِ خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو …

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق (میر تقی میر)

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جاں کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق عشق ہے طرز و طور عشق کے تیں کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق عشق معشوق عشق عاشق ہے یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق گر …