Category «شاعری»

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا (احمد مشتاق)

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا بس یہی ناں درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا وہ مِرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں دل کا کیا ہے کل کو پھر اچھا بھلا ہو جائے گا​ گھر سے کچھ خوابوں سے ملنے کیلیے نکلے تھے ہم کیا خبر …

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا (احمد فراز)

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا وگرنہ درد کا موسم تو شہر بھر میں رہا کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا کچھ اس طرح سے گزری ہے زندگی جیسے تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا وداعِ یار کا منظر …

تشنگی آنکھوں میں ، اور دریا خیالوں میں رھے (احمد فراز)

تشنگی آنکھوں میں ، اور دریا خیالوں میں رھے ھم نَوا گر خوش رھے ، جیسے بھی حالوں میں رھے اِس قدر دنیا کے دُکھ ، اے خُوبصُورت زندگی جس طرح تتلی کوئی ، مَکڑی کے جالوں میں‌ رھے دیکھنا اے راہ نوردِ شوق ، کُوئے یار تک کچھ نہ کچھ رنگِ حِنا ، پاؤں …

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو (احمد فراز)

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو  کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو   وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر  وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو   چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورت  پکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو …

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے (احمد فراز)

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام …

کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں (داغ دہلوی)

کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں اگر نہ آگ لگادوں، تو داغ نام نہیں وفورِ یاس نے یاں کام ہے تمام کیا زبانِ یار سے نکلی تھی ناتمام نہیں وہ کاش وصل کے انکار پر ہی قائم ہوں مگر انہیں تو کسی بات پر قیام نہیں سنائی جاتی ہیں درپردہ گالیاں مجھ …

تمہیں کیا ہو گیا ہے (افتخار عارف)

سرگوشی تمہیں کیا ہو گیا ہے بتاؤ تو سہی اے جان جاں! جانانِ جاں! آخر تمہیں کیا وہ گیا ہے اپنی ہی آواز سے ڈرنے لگے ہو، اپنے ہی سائے سے گھبرانے لگے ہو اپنے ہی چہرے سے شرمانے لگے ہو بتاؤ تو سہی آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے چلو ہم نے مانا یہ …

پھر مجھے دیدۃ تر یاد آیا (مرزا غالب)

پھر مجھے دیدۃ تر یاد آیا دل، جگر تشنئہ فریاد آیا دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا سادگی ہائے تمنا، یعنی پھر وہ نیریگِ نظر یاد آیا عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل! نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی گھر ترا خلد …

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو (مرزا غالب)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں سُبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر …

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں (مرزا غالب)

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں تا پھر نہ انتطار میں نیند آئے عمر بھر آنے کا وعدہ کر گئے آئے جو خواب میں قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے خط کے جواب میں …