اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا (بشیر بدر)
اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا ہزاروں جگنوؤں سے بھی اندھیرا کم نہیں ہوتا کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا بہت سے لوگ دل کو اس طرح محفوظ رکھتے ہیں کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا بچھڑتے …