Category «شاعری»

نہ طے کرتا تو رہتا قصئہ تیغوں گلوں برسوں (قمر جلالوی)

نہ طے کرتا تو رہتا قصئہ تیغوں گلوں برسوں خدا رکھے تجھے قاتل رہے دنیا میں تو برسوں خدا کی شان واعظ بھی ہجوئے مے کرے مجھ سے کہ جس نے ایک اک ساغر پہ توڑا ہے وضو برسوں بہارِ گل میں نکلے خوب ارماں دشتِ وحشت کے رفو گر نے کیا دامن کی کلیوں …

اب تو اٹھ سکتا نہیں آنکھوں سے بارِ انتظار (حسرت موہانی)

اب تو اٹھ سکتا نہیں آنکھوں سے بارِ انتظار کس طرح کاٹے کوئی لیل و نہارِ انتظار ان کی الفت کا یقیں ہو ان کے انے کی امید ہوں یہ دونوں صورتیں تو ہے بہارِ انتظار جان و دل حال کیا کہیےفراقِ یار میں جاں مجروحِ الم ہے، دل فگارِ انتظار میری آہیں نارسا، میری …

سر یہ حاضر ہے جو ارشاد ہو مر جانے کو (حسرت موہانی)

سر یہ حاضر ہے جو ارشاد ہو مر جانے کو کون ٹالے گا بھلا آپ کے فرمانے کو دانشِ بخت ہے بے دانشیِ شوق کا نام لوگ دیوانہ نہ سمجھیں ترے دیوانے کو بھول جاؤں میں انہیں ہو نہیں سکتا ناصح آگ لگ جائے ظالم ترے سمجھانے کو دیکھ لیں شمع کو تاثیرِ وفا کے …

نہ سہی گر انہیں خیال نہیں (حسرت موہانی)

نہ سہی گر انہیں خیال نہیں کہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیں یاد انہیں وعدۃ وصال نہیں کب کیا تھا یہی خیال نہیں ایسے بگڑے وہ سن کے شوق کی بات آج تک ہم سے بول چال نہیں مجھ کو اب غم یہ ہے کہ بعد مرے خاطرِ یار ہے ملال نہیں دل کو …

ہم حال انہیں یوں دل کا سنانے میں لگے ہیں (حسرت موہانی)

ہم حال انہیں یوں  دل کا سنانے میں لگے ہیں کچھ کہتے نہیں پاؤں دبانے میں لگے ہیں لاکھوں ہیں تِری دید کے مشتاق، مگرہم محروم تجھے دل سے بھلانے میں لگے ہیں اور ایسے کہاں حیرت و حسرت کے مرقعے اے دل جو تِرے آئینہ خانے میں لگے ہیں کہنا ہے انہیں یہ کہ …

چُپکے چُکے رات دن انسو بہانا یاد ہے (حسرت موہانی)

چُپکے چُکے رات دن انسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے باہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مِرا پردے کا کونہ دفعتاً اور دوپٹے سے تِرا وہ منہ چھپانا یاد ہے تجھ سے کچھ مِلتے …

توڑ کر عہدِ کرم ناآشنا ہو جایئے (حسرت موہانی)

توڑ کر عہدِ کرم ناآشنا ہو جایئے بندہ پرور جایئے اچھا خفا ہو جایئے میرے عذرِ جرم پر مطلق نہ کیجے التفات بل کہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جایئے خاطرِ محروم کو بھی کر دیجیے محوِ الم درپئے ایذائے جانِ مبتلا ہو جایئے میری تحریرِ ندامت کا نہ دیجے کچھ جواب …

پردے سے اک جھلک جو وہ دکھلا کے رہ گئے (حسرت موہانی)

پردے سے اک جھلک جو وہ دکھلا کے رہ گئے مشتاقِ دید اور بھی للچا کے رہ گئے گم کردہ راہ عشق فنا کیوں نہ ہو گیا احساں جو اس پہ خضر و مسیحا کے رہ گئے آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہارِ حسن آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے جب عاشقوں …

بھُلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں (حسرت موہانی)

بھُلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی! ترکِ الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں     نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیتِ صہبا کے افسانے شرابِ بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قیدِ ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشتِ خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں …