دیارِ گل کی رات میں چراغ سا جلا گیا (ناصر کاظمی)
دیارِ گل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیے اسے بھی نیند آگئی مجھے بھی صبر آگیا پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا …