اولِ شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی (آرزو لکھنوی)

  اولِ شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی رات کے آخر ہوتے ہوتے  ختم تھا یہ افسانہ بھی   قید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی   ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی …

ابھی تو میں جوان ہوں (حفیظ جالندھری)

  ہوا بھی خوشگوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا اِدھر تو لوٹ اِدھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سُبو سُبو اٹھا سُبو اٹھا پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے اِدھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ بے خبر …

دردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اُٹھا (مصطفیٰ زیدی)

دردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اُٹھا آگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اُٹھا تابشِ حسن بھی تھی، آتشِ دنیا بھی مگر شعلہ جس نے مجھے پھونکا مِرے اندر سے اُٹھا کسی موسم کی فقیروں کو ضرورت نہ رہی آگ بھی ابر بھی طوفاں بھی ساغر سے اُٹھا بے صدف کتنے …

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے (مصطفیٰ زیدی)

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے غمِ دل مِرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے کوئی ہم  نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے مِری روح کی حقیقت مِرے آنسوؤں سے پوچھو مرا مجلسی تبسم مِرا ترجماں نہیں ہے کسی زلف کو …

آخری بار ملو ( مصطفیٰ زیدی)

  آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضا نہ کریں چاک وعدہ نہ سلے زخمِ تمنا نہ کھلے   سانس ہموار رہے شفق کی لو تک نہ ہلے    باتیں بس اتنی کہ لمحے اُنہیں آکر گن لیں آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں اس ملاقات …

چوڑیوں کی کھنک (منصورہ احمد)

رتجگے چوڑیوں کی کھنک چنریوں کی دھنک موتئے کی مہک  ایک دن بھول کر میرے گھر آئے تھے میں نے دہلیز سے ان کو لوٹا دیا امتناعی رتوں کی کڑی دھوپ میں پھول کے خیر مقدم کا ارماں نہ تھا اور پھر یوں ہوا خواب کے خوف نے چونکتی آنکھ میں رتجگے بو دیئے تیرے …

جب بھی کوئی چھوٹا سا اور اچھا سا میں کام کروں (ناہید قاسمی)

انعام جب بھی کوئی چھوٹا سا اور اچھا سا میں کام کروں جب بھی جگمگ سچے موتی جیسا اک سچ بولوں جب بھی مجھ سے کسی کا دل دکھ جانے پر میری آنکھ میں آنسو آئے،  میرے دل میں ہوک اٹھے جب بھی دل کی کھیتی میں کچھ ستھری آرزوؤں کے اکھوے پھوٹیں اس شب …

اس قدر اب غمِ دوراں کی فراونی ہے (مصطفیٰ زیدی)

اس قدر اب غمِ دوراں کی فراونی ہے تو بھی منجملئہ اسبابِ پریشانی ہے مجھ کو اس شہر سے کچھ دور ٹھہر جانے دو میرے ہمراہ مِری بے سروسامانی ہے اک ترا لمحئہ اقرار نہیں مر سکتا اور ہر لمحہ زمانے کی طرح فانی ہے کوچئہ دوست سے آگے ہے بہت دشتِ جنوں عیش والوں …

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا (مصطفیٰ زیدی)

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا دل جس سے مل گیا وہ دوبارہ نہیں ملا ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا قدموں کو شوقِ آبلہ پائی تو مل گیا لیکن …