Monthly archives: November, 2019

یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار، باغ کا(مرزا غالب)

یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار، باغ کا یاں جادہ بھی، فتیلہ ہے لالے کے داغ کا بے مے ، کسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کا تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے …

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور (مرزا غالب)

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ وہ سمجھیں گے مِری بات دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے لے آئیں گے …

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے (مرزا غالب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے نکلنا خُلد سے آدم کا تو سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر تِرے کوچے سے ہم نکلے ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستئہ تیغِ ستم …

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے (مرزا غالب)

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں نامئہ دل دار کھولنا جاں نذرِ دل فریبیِ عنواں کیے ہوئے پھر جی میں ہے در پہ کسی کے پڑے رہیں سر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئے جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن …

کہتے ہو نہ دیں گے ہم ، دل اگر پڑا پایا (مرزا غالب)

کہتے ہو نہ دیں گے ہم ، دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے، ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی ، دردِ بے دوا پایا دوستدارِ دشمن ہے ، اعتمادِ دل معلوم! آہ بے اثر دیکھی ، نالہ نارسا پایا سادگی و پُرکاری …

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے (مرزا غالب)

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ ہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھبے جامۂ احرام …

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں (مرزا غالب)

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیں لیکں اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو …

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے (مرزا غالب)

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے  کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہ  تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال  دشمنی اپنی تھی میری دوست داری …

تمہیں ‌جفا سے نہ یوں‌ باز آنا چاہئے تھا (پیر زادہ قاسم)

تمہیں ‌جفا سے نہ یوں‌ باز آنا چاہئے تھا  ​ ابھی کچھ اور میرا دل دُکھانا چاہئے تھا​ طویل رات کے پہلو میں کب سے سوئی ہے​ نوائے صبح تُجھے جاگ جانا چاہئے تھا​ بہت قلق ہوا حیرت زدہ طوفانوں کو​ کہ کون ڈُوبے کہیں ‌ڈوب جانا چاہئے تھا​ بُجھے چراغوں میں کتنے ہیں ‌جو …

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو (پیر زادہ قاسم)

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو مقتل غم کی رونقیں ختم نہ ہونے …