Monthly archives: September, 2020

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا (ندا فاضلی)

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں آتا وہ اِک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں …

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا (ندا فاضلی)

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا ایک بے چہرہ سی امید ہے چہرہ چہرہ جس طرف دیکھیے آنے کو ہے آنے والا اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا دور کے چاند کو …

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں (اسلم انصاری)

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں دور و نزدیک سے اٹھتا نہیں شورِ زنجیر اور صحرا میں کوئی نقشِ کفِ پا بھی نہیں گل بہر …

ہوتا ہے سوزِ عشق سے جل جل کے دل تمام (حیدر علی آتش)

ہوتا ہے سوزِ عشق سے جل جل کے دل تمام کرتی ہے روح مرحلہِ آب و گل تمام دردِ فراقِ یار سے کہتا ہے بندنہ اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مضمحل تمام ہوتا ہے پردہ فاش کلام دروغ کا وعدے کا دن سمجھ لے وہ پیماں گسل تمام خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ …

معشوق نہیں کوئی حسیں تم سے زیادہ (حیدر علی آتش)

معشوق نہیں کوئی حسیں تم سے زیادہ مشتاق ہیں کس ماہ کے انجم سے زیادہ صوفی جو سنے نالہ موزوں کو ہمارے حالے ہو مغنی کے ترنم سے زیادہ آئینے میں دیکھا ہے جو منہ چاند سا اپنا نہ گم ہے وہ بت، عاشق خود گم سے زیادہ بجلی کو جلا دیں گے وہ لب …

غزل جو ہم سے وہ محبوب نکتہ داں سنتا (حیدر علی آتش)

غزل جو ہم سے وہ محبوب نکتہ داں سنتا زمین شعر کا افسانہ آسماں سنتا زبان کون سی مشغول ذکر خیر نہیں کہاں کہاں نہیں میں تیری داستاں سنتا خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں پڑتے جرس سے مژدۃ منزل ہے کارواں سنتا نہ پوچھ، کان میں کیا کیا کہا ہے، کس کس نے …

رخصت یار کا جس وقت خیال اتا ہے (حیدر علی آتش)

رخصت یار کا جس وقت خیال اتا ہے عمر رفتہ کو مجھے یاد دلا جاتا ہے خیار سے خشک ہوں گو، ہجر میں اس گل رو کے پر وہ کانٹا ہوں جو دامن نہیں الجھاتا ہے خس و خاشاک کا رتبہ ہے  مجھے عالم میں پہلے پھنکتا ہوں میں جو آگ کو سلگاتا ہے جان …

تِری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا (قیصرالجعفری)

تِری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا مرے …

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے (قیصرالجعفری)

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے اس …

وہ روز کون سا ہے کہ ہم پر ستم نہیں (ابراہیم ذوق)

وہ روز کون سا ہے کہ ہم پر ستم نہیں گر یہ ستم ہے روز تو اِک روز ہم نہیں یہ دل مجھے ڈبو کے رہے گا کہ سینے میں وہ کون سا ہے داغ جو گردابِ غم نہیں یہ ضبطِ پیچ و تاب کہ میرے سرِ مزار گیسوئے دودِ شمع میں بھی پیچ و …