Category «شاعری»

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں (شہریار)

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں سُرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں دن ڈھلے یوں تیری آواز بلاتی ہے ہمیں! یاد تیری کبھی دستک کبھی خاموشی سے رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں! ہر ملاقات کا انجام جدائی …

دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے (شہریار)

دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے نوکِ خنجر ہی بتائے گی کہ خون کتنا ہے آندھیاں آئیں توسب لوگوں کو معلوم ہوا پرچمِ خواب زمانے میں نگوں کتنا ہے جمع کرتے رہے جو اپنے آپ کو ذرہ ذرہ وہ یہ کیا جانیں بھکرنے میں فسوں کتنا ہے وہ جو پیاسے تھے …

خموش رہنا ہے اے اہلِ درد یوں کب تک (شہریار)

خموش رہنا ہے اے اہلِ درد یوں کب تک رگِ گلو میں چبھی گی یہ موجِ خوں کب تک بہت دنوں سے گزرگاہِ خواب سونی ہے سرائے شام ! یہاں اور میں رکوں کب تک کسی نے کھول دیئے بادبان یادوں کے تجھے پکاروں کہاں صدائیں دوں کب تک ہر ایک شخص پہ تیرا گمان …

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا (شہریار)

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا دیکھنے کے لئے اک چہرہ بہت ہوتا ہے آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا میری تنہائی کی رسوائی کی منزل ہے وصل کے لمحے سے میں ہجر کی شب دیکھوں گا شام ہوتی ہے کھلی سڑکوں …

میں بھول جاؤں تمہیں (جاوید اختر)

میں بھول جاؤں تمہیں اب یہی مناسب ہے مگر بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو کوئی خواب نہیں یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کہ کیا کہوں !کمبخت بھلا سکا نہ یہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں وہ اک خیال جو آواز تک گیا ہی …

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی (جاوید اختر)

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی قدم رکھا کہ منزل راستہ تھی کبھی جو خواب تھا، وہ پا لیا ہے مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جسے چھو لوں میں وہ ہو جائے سونا تجھے دیکھا تو جانا بد دعا تھی محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے میرے اچھے دنوں کی …

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں (جاوید اختر)

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں چھت کی کڑیوں سے اترتے ہیں مرے خواب مگر میری دیواروں سے ٹکرا کے بکھر جاتے ہیں اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں راستہ …

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا (عبیداللہ علیم)

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا یہ زندگی ہے ہماری سمبھال کر رکھنا کھلا کہ عشق نہیں ہے کچھ اور اس کے سوا ردائے یار جو ہو وہ اپنا حال کر رکھنا اسی کا کام ہے فرشِ زمیں بچھا دینا اسی کا کام  ستارے اچھال کر رکھنا اسی کا کام ہے اس دکھ …

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ (امجد اسلام امجد)

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ، فسانے ہو جاتے ہیں آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں، خواب پرانے ہو جاتے ہیں ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے میل دلوں میں آجائے تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں منظر منظر کھل اٹھتی ہے پیراہن کی قوس و قزح موسم تیرے ہنس پڑنے سے …