محبت اب نہیں ہو گی (منیر نیازی)
ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشمِ حیراں میں ملاقاتیں جو ہوتی ہیں جمالِ ابرِ باراں میں یہ نا آباد وقتوں میں دلِ ناشاد میں ہو گی محبت اب نہیں ہو گی یہ کچھ دن میں ہو گی گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہو گی
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشمِ حیراں میں ملاقاتیں جو ہوتی ہیں جمالِ ابرِ باراں میں یہ نا آباد وقتوں میں دلِ ناشاد میں ہو گی محبت اب نہیں ہو گی یہ کچھ دن میں ہو گی گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہو گی
تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا ذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا رخِ بے داغ دکھلایا تو ہوتا گل و لالہ کو شرمایا تو ہوتا چلے گا کبک کیا رفتار تیری یہ انداز قدم پایا تو ہوتا نہ کیوں کر حشر ہوتا دیکھتے ہو قیامت قد ترا لایا تو ہوتا بجا لاتے اسے آنکھوں …
یار کو میں نے، مجھے یار نے سونے نہ دیا رات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیا دھوپ میں سایہِ دیوار نے سونے نہ دیا شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبح شادیِ دولتِ دیدار نے سونے نہ دیا رات بھر کیں …
گستاخ بہت شمع سے پروانہ ہوا ہے موت آئی ہے، سر چڑھتا ہے، دیوانہ ہوا ہے اس عالم ایجاد میں گردش سے فلک کے کیا کیا نہیں ہونے کا ہے کیا کیا نہ ہوا ہے نالوں سے مرے کون نہ تھا تنگ مرے بعد کس گھر میں نہیں سجدۃ شکرانہ ہوا ہے یاد آتی ہے …
سن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک بامِ بلند، یار کا ہے آستانہ کیا چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ …
گذشتہ خاک نشینوں کی یادگار ہوں میں مِٹا ہوا سا نشانِ مزار ہوں میں نگاہِ گرم سے مجھ کو نہ دیکھ اے دوزخ خبر نہیں تجھے کس کا گناہ گار ہوں میں پھر اُس کی شانِ کریمی کے حوصلے دیکھے گناہ گار یہ کہہ دے گنہ گار ہوں میں حضور! وصل کی حسرت ازل سے …
طور پر اے تپشِ دل ہیں وہ آنے والے آج ہم تجھ کو ہیں بجلی سے لڑانے والے ہم جو پہنچے تو قیامت میں ہوا غُل آئے دھجیاں دامنِ محشر کی اڑانے والے جامِ مے کاتبِ اعمال کو بھی دے ساقی دو بزرگ آئے ہیں ساتھ اگلے زمانے والے اشکِ خجلت عرقِ شرم تمہیں دونوں …
دیر میں کون ہے کعبے میں گزر کس کا ہے یار کا گھر یہ اگر ہے تو وہ گھر کس کا ہے تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے سینہ کس کا ہے مِری جان جگر کس کا ہے تن درستوں نے قضا کی ہوئے بیمار صحیح پہلے کیا جانیے دنیا سےسفر کس …
ہر دَم جو خونِ تازہ مِری چشمِ تر میں ہے ناسور دل میں ہے کہ الٰہی جگر میں ہے واصل سمجھیے اس کو جو سالک ہے عشق میں منزل پہ جانیے اسے جو رہگزر میں ہے ساقی مئے طہور میں کیفیتیں سہی پر وہ مزہ کہاں ہے جو تیری نظر میں ہے دنیائے ثبات میں …
خلوت میں بے خودی سے پتہ ہی کہیں نہیں کیا سیر ہوں وہاں کہ ہمیں ہیں ہمیں نہیں شکوہ جفا کا تم سے کچھ اے نازنیں نہیں ایسے ہی تم میں ہوتے ہیں سب اک تمہیں نہیں عالم سے ان کی انجمنِ ناز ہے الگ چھت جس کی آسماں ہے یہ وہ زمیں نہیں گزرا …