اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے (ابراہیم ذوق)
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم نے ٹھیرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مِرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں …