حسنِ مطلق کا ازل کے دن سے میں دیوانہ تھا (امیر مینائی)

حسنِ مطلق کا ازل کے دن سے میں دیوانہ تھا لامکاں کہتے ہیں جس کو وہ مِرا کاشانہ تھا دل کا حاکم جاں کا مالک غمِ جانانہ تھا میہماں جس کو میں سمجھا تھا وہ صاحب خانہ تھا دیر کی تحقیر کر اتنی نہ اے شیخِ حرم آج کعبہ بن گیا کل تک یہی بت …

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں (ساغر صدیقی)

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں جی میں آتا ہے الٹ دیں ان کے چہرے سے نقاب حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جھوم کر وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں …

ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا (داغ دہلوی)

      ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا برائی دیکھی، بھلائی دیکھی، عذاب دیکھا ثواب دیکھا نہ دل ہی ٹھہرا ، نہ آنکھ جھپکی، نہ چین پایا، نہ خواب آیا خدا دکھائے نہ دشمنوں کو، جو دوستی میں عذاب دیکھا نظر میں ہے تیری کبریائی، سماگئی تیری خود نمائی اگر چہ دیکھی بہت …

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں (داغ دہلوی)

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں ہم تصور میں بھی جو بات ذرا کہتے ہیں سب میں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کیا کہتے ہیں جو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیں نہ برا سنتے ہیں اچھے نہ …

وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سےا دھر بھی (بیخود دہلوی)

وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سےا دھر بھی چلتا ہوا جادو ہے محبت کی نظر بھی اٹھنے گی نہیں دیکھیے شمشیرِ نظر بھی پہلے ہی لچکتی ہے کلائی بھی کمر بھی پھوٹیں مری آنکھیں جو کچھ آتا ہو نظر بھی دنیا سے الگ چیز ہے فرقت کی سحر بھی ساقی کبھی مل جائے محبت کا …

کچھ حسن وفا کے دیوانے پھر عشق کی راہ میں کام آئے (نعیم صدیقی)

کچھ حسن وفا کے دیوانے پھر عشق کی راہ میں کام آئے اے کاش تماشا کرنے کو خود تو بھی کنارِ بام آئے الفاظ نہ تھے آواز نہ تھی نامہ بھی نہ تھا قاصد بھی نہ تھا ایسے بھی کئی پیغام گئے ایسے بھی کئی پیغام آئے شب مے خانے کی محفل میں اربابِ وفا …

تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملی (منیر نیازی)

تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملی ان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملی اب تک ہیں اس گماں میں کہ ہم بھی ہیں دہر میں اس وہم سے نجات کی صورت نہیں ملی رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر ان روز وشب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی …

اے دوست! تری آنکھ جو نَم ہے تو مجھے کیا (قتیل شفائی)

اے دوست! تری آنکھ جو نَم ہے تو مجھے کیا میں خوب ہنسوں گا، تجھے غم ہے تو مجھے کیا کیا میں نے کہا تھا کہ زمانے سے بھلا کر اب تو بھی سزاوارِ ستم ہے تو مجھے کیا ہاں لے لے قسم گر مجھے قطرہ بھی ملا ہو تو شاکی اربابِ کرم ہے تو …

جس سمت بھی وہ فتنئہ رفتار جائے گا (عبد الحمید عدم)

جس سمت بھی وہ فتنئہ رفتار جائے گا آنچل کے ساتھ سایئہ گلزار جائے گا محشر میں بھی ہماری تلافی کے واسطے اُس کی گلی کا سایئہ دیوار جائے گا اے دوست! دردِ عشق ہو یا دردِ زندگی دل میں جو بس چکا ہے وہ دشوار جائے گا یہ ابرِ نو بہار، یہ  فصلِ ہجومِ …

گل گئے، بوٹے گئے، گلشن ہوئے برہم، گئے (میر تقی میر)

گل گئے، بوٹے گئے، گلشن ہوئے برہم، گئے کیسے کیسے ہائے، اپنے دیکھتے موسم گئے ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر دیدۃ تر ساتھ لے کر وے لوگ جوں شبنم گئے شاید اب ٹکڑوں نے دل کے، قصد آنکھوں کا کیا کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے …