بھیڑ میں اِک اجنبی کا سامنا اچھا لگا (امجد اسلام امجد)
بھیڑ میں اِک اجنبی کا سامنا اچھا لگا سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھِلنے لگے کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا بات تو کچھ بھی نہیں تھی لیکن اس کا اِک دم ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا چائے …