بھیڑ میں اِک اجنبی کا سامنا اچھا لگا (امجد اسلام امجد)

بھیڑ میں اِک اجنبی کا سامنا اچھا لگا سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھِلنے لگے کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا بات تو کچھ بھی نہیں تھی لیکن اس کا اِک دم ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا چائے …

پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے (قتیل شفائی)

پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو آنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی …

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ (قتیل شفائی)

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ سکوتِ مرگ طاری ہے ستارو  تم تو سو جاؤ ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوب جاؤ خلاؤں میں ہمیں پہ رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہو گا یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو …

ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی (محسن نقوی)

ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا راستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی مجھ سے بچھڑ …

اتنی مدت بعد ملے ہو (محسن نقوی)

اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو اتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگتے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے …

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے (نوشی گیلانی)

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلتے مگر وہ شخص تو راستہ بدلتا جاتا ہے رُتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں …

ہر لمحہ اگر گریز پا ہے (احمد ندیم قاسمی)

ہر لمحہ اگر گریز پا ہے تو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے چلمن میں گلاب سنبھال رہا ہے یہ تو ہے کہ شوخئی سبا ہے جھکتی نظریں بتا رہی ہیں میرے لیے تو بھی سوچتا ہے میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن چپ بھی تو بیانِ مدعا ہے ہر دیس کی اپنی …

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی (نوشی گیلانی)

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی جانتے ہیں کہ یقیں ٹوٹ رہا ہے دل پر پھر بھی اب ترک یہ وحشت نہیں کی جا سکتی حبس کا شہر ہے اور اس میں کسی بھی صورت سانس لینے کی سہولت نہیں دی جا سکتی …

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے )پروین شاکر)

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے وقت سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے ہی مل نہیں پائے لے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر …

ناز وتمکیں ہے وہاں، صبرکی یاں تاب نہیں (مصطفیٰ خان شیفتہ)

ناز وتمکیں ہے وہاں، صبرکی یاں تاب نہیں یہی صورت ہے تو کچھ نبھنے کے اسباب نہیں منع کیوں عشقِ مجازی سے ہمیں کرتے ہو زاہدو! دہر مگر عالمِ اسباب نہیں؟ کہیے اعدا کی بھی کچھ دل شکنی ہے منظور یہ تو مانا کہ تمہیں خاطرِ احباب نہیں شکوہ آئینِ محبت میں ہے ایجادِ لطیف …