فرصتِ زندگی بہت کم ہے (میر درد)

فرصتِ زندگی بہت کم ہے مغتنم ہے ، یہ دید جو دم ہے دین و دنیا میں تُو ہی ظاہر ہے دونوں عالم کا ایک عالم ہے سلطنت پر نہیں ہے کچھ موقوف جس کے ہاتھ آوے جام سو جم ہے اپنے نزدیک باغ میں تجھ بن جو شجر ہے سو نخلِ ماتم ہے درد …

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا (میر درد)

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا اذیت ، مصیبت ، ملامت ، بلائیں تِرے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے اِدھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا حجابِ رُخِ یار تھے آپ ہی ہم کھلی آنکھ …

برگ بھر بار محبت کا اٹھایا کب تھا (جلیل عالی)

برگ بھر بار محبت کا اٹھایا کب تھا تم نے سینے میں کوئی درد بسایا کب تھا اب جو خود سے بھی جدا ہو کے پھرو ہو بن میں تم نے بستی میں کوئی دوست بنایا کب تھا نقدِ احساس کہ انساں کا بھرم ہوتا ہے ہم نے کھویا ہے کہاں آپ نے پایا کب …

موت کا وقت گزر جائے گا (فرحت احساس)

موت کا وقت گزر جائے گا یہ بھی سیلاب اتر جائے گا آگیا ہے جو کسی سکھ کا خیال مجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا کیا خبر تھی مرا خاموش مکاں اپنی آواز سے ڈر جائے گا آ گیا ہے جو دکھوں کا موسم کچھ نہ کچھ تو کہیں دھر جائے گا جھوٹ …

وہ شخص کہ میں جس سےمحبت نہیں کرتا (قتیل شفائی)

وہ شخص کہ میں جس سےمحبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا کس قوم کے دل میں نہیں جذباتِ براہیم کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا بھولا نہیں میں آج بھی آدابِ جوانی میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا دیتے ہیں اجالے مِرے سجدوں کی گواہی میں چھپ …

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے (قتیل شفائی)

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں، خدا نہ کرے رہے گا ساتھ تِرا پیار زندگی بن کر یہ اور بات ہے مِری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے …

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں (قتیل شفائی)

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی میں اندھیرا روشنی کو گھر بلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی …

لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے (قتیل شفائی)

شاعری سچ بولتی ہے لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرا اصرار کہ چاہت مری بے تاب نہ ہو واقف اس غم سے مرا حلقئہ احباب نہ ہو تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں …

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں (قتیل شفائی)

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلئہ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خودنمائی تو نہیں شیوۃ اربابِ وفا …

چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن (امجد اسلام امجد)

چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حُسن کی بارش میں نہا لوں بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح …