تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے (اخترالایمان)

بنتِ لمحات تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ غنیمِ نور کا حملہ کہو اندھیروں پر دیارِ درد میں آمد کہو مسیحا کی رواں دواں ہوئے خوشبوؤں کے قافلے ہر سو خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی یہ اِک کہرا سا،  یہ دھند سی …

نگر نگر کے دیس دیس کے پربت ٹیلے اور بیاباں (اخترالایمان)

بلاوا نگر نگر کے دیس دیس کے پربت ٹیلے اور بیاباں ڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو کھیل رہے ہیں میرے ارماں میرے سپنے میرے آنسو ان کی چھلنی چھاؤں میں جیسے دھوپ میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے! دن کے اجالے سانجھ کی لالی رات کے اندھیارے سےکوئی مجھ …

میں جب طفلِ مکتب تھا، ہر بات (اخترالایمان)

آگہی میں جب طفلِ مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھا کھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطینِ پارین و حاضر حکایاتِ شیریں و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائم  جو صفحاتِ تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامر نواہی حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبے جنہیں مستمندوں نے باقی رکھا اس …

تتلیاں ناچتی ہیں (اخترالایمان)

باز آمد۔۔۔۔۔۔ایک منتاج تتلیاں ناچتی ہیں پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں جیسے اک بات ہے جو کان میں کہنی ہے خاموشی سے اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات دھوپ میں تیزی نہیں ایسے آتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا جیسے دستِ شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا …

فراقِ یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا (امیر مینائی)

                          فراقِ یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا کبھی تکیہ اِدھر رکھا کبھی تکیہ اُدھر رکھا شکستِ دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھا لکھا اہلِ وطن کو خط تو اِک گوشہ کتر رکھا برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی اسے زیرِ قدم رکھا اُسے پیشِ …

جب سے بلبل نے دو تنکے لیے (امیر مینائی)

جب سے بلبل نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار سادگی گہنا ہے اس سن کے لیے کون ویرانے میں دیکھے گا باہر پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں …

اچھے عیسٰی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے (امیر مینائی)

اچھے عیسٰی ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے بھولے پن سے دمِ رخصت یہ سوال اچھا ہے ہاتھ سینے پہ ہے کیوں دل کا تو حال اچھا ہے غم میں گزرے تو برا عیش میں گزرے تو بھلا نہ برا ہے کوئی دنیا میں نہ …

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا ( وسیم بریلوی)

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی دامن بچا لے گئی دن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور میں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور میں تھا کہ سچ …

آوارگی میں ہم نے اس کو بھی ہُنر جانا (محسن نقوی)

آوارگی میں ہم نے اس کو بھی ہُنر جانا اقرار وفا کرنا، پھر اس سے مُکر جانا!!! جب خواب نہیں کوئی، کیا عمر کا طے کرنا ہر صبح کو جی اُٹھنا، ہر رات کو مر جانا!!! شب بھر کے ٹھکانے کو, اک چھت کے سوا کیا ہے کیا وقت پہ گھر جانا، کیا دیر سے …

‏ہماری چاہت کا لمحہ لمحئہ وصال ہوتا، کمال ہوتا (محسن نقوی)

‏ہماری چاہت کا لمحہ لمحئہ وصال ہوتا، کمال ہوتا۔۔ تمہارا ہم سے بچھڑنا پل بھر محال ہوتا، کمال ہوتا۔۔ مری نظر میں ترا سراپا سنور رہا ہے جس طرح جاناں، تری نظر میں بھی گر مرا طیہ جمال ہوتا، کمال ہوتا۔۔ ہوا کی لہروں پہ ڈولتے کچھ خزاں رسیدہ یہ سرد پتے، کسی کی چاہت …