مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا (محسن نقوی)
مَیں کیوں نہ ترکِ تعلق کی ابتدا کرتا وہ دُور دیس کا باسی تھا کیا وفا کرتا؟ وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا مَیں هنس کے زخم نہ کھاتا تو اور کیا کرتا؟ هزار آئینہ خانوں میں بھی مَیں پا نہ سکا وہ آئینہ جو مجھے خود سے آشنا کرتا درِ قفس پہ …