Category «شاعری»

اپنا سا شوق اروں میں لائیں کہاں سے ہم (حسرت موہانی)

اپنا سا شوق اروں میں لائیں کہاں سے ہم گھبرا گئے ہیں بے دلئی ہمرہاں سے ہم معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا اب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم مایوس بھی تو کرتے نہیں تم زراہِ ناز تنگ آگئے ہیں کش مکشِ امتحاں سے ہم ہے انتہائے یاس …

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا (غلام محمد قاصر)

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا اس کی شکل مجھے چاند میں نظر آئی وہ ماہ رُخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا …

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے (غلام محمد قاصر)

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے خارِ چمن تھے شبنم شبنم، پھول بھی سارے گیلے تھے شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کی ریت کے یارانے لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں …

عشق کو بے نقاب ہونا تھا (جگر مراد آبادی)

عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہو نا تھا مستِ جامِ شراب ہونا تھا بے خودئی اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھے خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہو چکا جو عتاب ہونا تھا کوچئہ عشق میں نکل آیا جس کو خانہ خراب ہونا …

وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے (امیر مینائی)

وصل ہو جائے یہیں، حشر میں کیا رکھا ہے آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے اس تغافل میں …

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے (تابش الوری)

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے  راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے  میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے یاران دشت رونق بازار بن گئے  سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے ہر اہل انجمن کی ضرورت تھی روشنی  میں شمع انجمن تھا پگھلنا …

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں (تعشق لکھنوی)

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق …

اب وہ زیبائشیں کہاں باقی (اتباف ابرک)

اب وہ زیبائشیں کہاں باقی دل کی فرمائشیں کہاں باقی یونہی خود ساختہ سا ہنستا ہوں ورنہ گنجائشیں کہاں باقی کوئی کہہ دے تو مسکراتا ہوں خود میں اب خواہشیں کہاں باقی دسترس میں حیات ہے لیکن اس کی آرائشیں کہاں باقی رونقیں دیکھنے میں جوبن پر کل سی گرمائشیں کہاں باقی ساری آلودگی ہے …

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے (احمد فراز)

نبھاتا کون ہے قول و قسم، تم جانتے تھے یہ قُربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے رہا ہے کون، کس کے ساتھ انجامِ سفر تک یہ آغازِ مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے مزاجوں میں اُتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم، تم جانتے تھے …

ﺩﻝِ ﺍٓﺷﻔﺘﮧ ﭘﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮐﺌﯽ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺋﮯ(جمیل الدین عالی)

ﺩﻝِ       ﺍٓﺷﻔﺘﮧ      ﭘﮧ      ﺍﻟﺰﺍﻡ      ﮐﺌﯽ     ﯾﺎﺩ    ﺍٓﺋﮯ ﺟﺐ     ﺗﺮﺍ      ﺫِﮐﺮ     ﭼﮭﮍﺍ    ﻧﺎﻡ    ﮐﺌﯽ   ﯾﺎﺩ   ﺍٓﺋﮯ ﺗُﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﭧ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ گزﺭنی تھی ﺳﻮ گزﺭﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﻤﺤﮧ    ﻟﻤﺤﮧ    ﺳﺤﺮ   ﻭ   ﺷﺎﻡ      ﮐﺌﯽ    ﯾﺎﺩ    ﺍٓﺋﮯ ﮨﺎﺋﮯ    ﻧﻮ    ﻋﻤﺮ    ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ    ﮐﺎ    ﯾﮧ    ﺍﻧﺪﺍﺯِ    ﺑﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ      ﻣﮑﺘﻮﺏ      ﺗﺮﮮ     ﻧﺎﻡ     ﮐﺌﯽ    ﯾﺎﺩ    ﺍٓﺋﮯ ﺍٓﺝ    ﺗﮏ    ﻣِﻞ   ﻧﮧ    ﺳﮑﺎ   ﺍﭘﻨﯽ  ﺗﺒﺎﮨﯽ  …