وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھا (احمد فراز)
وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھایوں زخم نمائی کا ارادہ بھی نہیںخلعت کے لئے قیمتِ جاں یوں بھی بہت تھیپھر اتنا دلآویز لبادہ بھی نہیں تھاہم مرحبا کہتے تیرے ہر تیرِ ستم پرسچ بات کہ دل اتنا کشادہ بھی نہیں تھاہم خون میں نہلائے گئے تیری گلی میںاور تُو کہ سر بام ستادہ …