Category «شاعری»

شیریں لبوں میں خلد کا مفہوم بے نقاب (عبد الحمید عدم)

شیریں لبوں میں خلد کا مفہوم بے نقاب زلفوں میں جھومتی ہوئی موجِ جنوں نواز موجِ جنوں نواز میں طوفانِ بے خودی طوفانِ بے خودی میں تمناؤں کا گداز باتوں میں لہلہاتی ہوئی جام کی کھنک اور جام کی کھنک میں بہاروں کے برگ و ساز اعضا میں لوچ،باتوں میں رس،دل میں مستیاں آنکھوں میں …

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی (حکیم ناصر)

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی  اس قدر اُلجھن میں پہلے زندگی دیکھی نہ تھی یہ تماشا بھی عجب ہے ان کے اُٹھ جانے کے بعد میں نے دن میں اس سے پہلے تیرگی دیکھی نہ تھی آپ کیا آئے کہ رُخصت سب اندھیرے ہو گئے اس قدر گھر میں …

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے (احمد فراز)

پیام آئے ہیں اس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے جدائیاں ہوں ایسی کہ عمر بھر نہ ملیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہوا کے مجھے میں خود کو …

بے کلی میں بھی سدا روپ سلونا چاہے (اختر ضیائی)

بے کلی میں بھی سدا روپ سلونا چاہے دل وہ بگڑا ہوا بالک، جو کھلونا چاہے حسن معصوم ہے پر خواب خزانوں کے بُنے کبھی ہیرے، کبھی موتی، کبھی سونا چاہے تجھ سے بچھڑا ہے تو گھائل کی عجب حالت ہے بیٹھے بیٹھے کبھی ہنسنا، کبھی رونا چاہے اس بات ناز کو دیکھوں تو میرا …

ﺑﮩﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ ( اعجاز توکل)

ﺑﮩﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﯿﻦ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮ ﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﻟﻔﻆ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﻌﻠﮧ ﺑﯿﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺟﺬﺑﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻘﻞ ﻣﮑﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻋﺸﻖ …

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں (ناصر کاظمی)

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں فرصتِ شوق بن گئی دیوار اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں ہوش کی تلخیاں مٹیں کیسے جتنی پیتا ہوں اتنا نشّہ نہیں دل کی گہرائیوں میں ڈوب کے دیکھ کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر سننے والوں …

نیرنگِ حُسنِ یار ترے بس میں کیا نہیں (فراق گورکھپوری)

نیرنگِ حُسنِ یار ترے بس میں کیا نہیں لطف و کرم تو مانعِ جور و جفا نہیں جِن کی صداےٓ درد سے نیندیں حرام تھیں نالے اب اُن کے بند ہیں تُو نے سنا نہیں نیرنگیِ اُمیدِ کرم اُن سے پوچھیے جن کو جفاےٓ یار کا بھی آسرا نہیں میرے سکوتِ ناز پہ اتنا نہ …

دل کو آئے کہ نگاہوں کو یقیں آ جائے (صوفی تبسم)

دل کو آئے کہ نگاہوں کو یقیں آ جائے کسی عنواں تو کوئی میرے قریں آ جائے بکھرے رہنے دو سر راہ نشان کف پا جانے کس دم کوئی آوارہ جبیں آ جائے سنتے جاؤ مرا بے ربط فسانہ شاید انہی باتوں میں کوئی بات حسیں آ جائے اور پھر اس کے سوا سحر محبت …

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے (راحت اندوری)

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کےدل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پرلوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسےوہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نےچند …

نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے (ساغر صدیقی)

نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے​میں جا نتا ہوں کہ تم نہ آؤگے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے​​مرے عزیزو! میرے رفیقو! چلو کوئی داستان چھیڑو​غم زمانہ کی بات چھوڑو یہ غم تو اب سازگار سا ہے​​وہی فسر دہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ​مری نگاہوں میں بار …