موسم موسم آنکھوں کو اِک سپنا یاد رہا (امجد اسلام امجد)
ہر موسم کا سپنا موسم موسم آنکھوں کو اِک سپنا یاد رہا صدیاں جس میں سمٹ گئیں وہ لمحہ یاد رہا قوسِ قزح کے رنگ تھے ساتوں اُس کے لہجے میں ساری محفل بھول گئی، وہ چہرہ یاد رہا کا سپنا
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
ہر موسم کا سپنا موسم موسم آنکھوں کو اِک سپنا یاد رہا صدیاں جس میں سمٹ گئیں وہ لمحہ یاد رہا قوسِ قزح کے رنگ تھے ساتوں اُس کے لہجے میں ساری محفل بھول گئی، وہ چہرہ یاد رہا کا سپنا
محبت محبت اوس کی صورت پیاسی پنکھڑی کے ہونٹوں کو سیراب کرتی ہے گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے سحر کے جھٹپٹے میں، گنگناتی، مسکراتی، جگمگاتی ہے محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے کسی فردوس کی صورت محبت اوس کی صورت محبت ابر کی صورت دلوں کی سرزمیں پر گھر …
لوگ محبت کرنے والے چُپکے چُپکے جل جاتے ہیں لوگ محبت کرنے والے پُروا سنگ نکل جاتے ہیں لوگ محبت کرنے والے ! آنکھوں آنکھوں چل پڑتے ہیں تاروں کی قندیل لیے چاند کے ساتھ ہی ڈھل جاتے ہیں لوگ محبت کرنے والے! دِل میں پھول کھلا …
قاصد خوشبو کی پوشاک پہن کر کون گلی میں آیا ہے ! کیسا یہ پیغام رساں ہے کیا کیا خبریں لایا ہے ! کھڑکی کھول کے باہر دیکھو موسم میرے دل کی باتیں، تم سے کہنے آیا ہے
ذرا سی بات زندگی کے میلے میں ، خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں، اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے سخت بے زمینی ہے ، سخت لامکانی ہے ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے …
رہی ہیں داد طلب ان کی شوخیاں ہم سے ادا شناس بہت ہیں مگر کہاں ہم سے سنا دیئے تھے کبھی کچھ غلط سلط قصے وہ آج تک ہیں اُسی طرح بد گماں ہم سے یہ کُنج کیوں نہ زیارت گہہِ محبت ہو ملے تھے وہ انہیں پیڑوں کے درمیاں ہم سے …
خود بخود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے کس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہے دل میں در آوے ہے ہر صبح کوئی یاد ایسے جوں دبے پاؤں نسیمِ سحری آوے ہے اور بھی زخم ہوئے جاتے ہیں گہرے دل کے ہم تو سمجھے تھے تمہیں چارہ گری آوے ہے …
کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے ترے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو اور تیری سفید چنبیلی تجھے بلاتی ہے ترے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہے اور مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
کس سے اظہارِ مدعا کیجے آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے ہو نہ پایا یہ فیصلہ اب تک آپ کیا کیجے تو کیا کیجے آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں سخت بیمار ہے دعا کیجے ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے جس سے ملیے اسے خفا کیجے …
آخری ملاقات آؤ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم ! آتی نہیں کہیں سے دلِ زندہ کی صدا سونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کے ہے شمعِ انجمن کا نیا حسن جاں گداز شاید نہیں رہے وہ پتنگوں کے ولولے تازہ نہ رہ سکیں گی روایاتِ دشت و در …