تم اور سورج ایک جیسے ہو (منصورہ احمد)
تم اور سورج تم اور سورج ایک جیسے ہو دونوں آنگن میں اترو تو جھلمل ہونے لگتی ہے دونوں کی حدت سے دل کی برف پگھلنے لگتی ہے دونوں آنکھ کی وسعت سے بڑھ جاتے ہو دونوں آنکھیں چندھیاتے ہو دونوں آگ میں جھلساتے ہو
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
تم اور سورج تم اور سورج ایک جیسے ہو دونوں آنگن میں اترو تو جھلمل ہونے لگتی ہے دونوں کی حدت سے دل کی برف پگھلنے لگتی ہے دونوں آنکھ کی وسعت سے بڑھ جاتے ہو دونوں آنکھیں چندھیاتے ہو دونوں آگ میں جھلساتے ہو
کوئی آواز دیتا ہے کوئی آواز دیتا ہے حریر و پرنیاں جیسی صداؤں میں کوئی مجھ کو بلاتا ہے کچھ ایسا لمس ہے آواز کا جیسے اچانک فاختہ کے ڈھیر سے کومل پروں پر ہاتھ پڑ جائے اور ان میں ڈوبتا جائے بہت ہی دور سے آتی صدا ہے میں لفظوں کے معانی کی …
وہ لڑکی جن پر میرا دل دھڑکا تھا ، وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے بِن کاجل اچھی لگتی ہیں مِری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو کیسی ہوں گی اس کی آنکھیں تنہائی میں …
اس کا دل تو اچھا تھا ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کی کبھی نہ دیکھا ، چمکے اس کی آنکھوں میں کیسے موتی کبھی نہ سوچا، تم سے ایسی باتیں وہ کیوں کہتی ہے کبھی نہ سمجھا ، ملتے ہو تو گھبرائی کیوں رہتی ہے کیوں اس کے …
بنتِ لمحات تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ غنیمِ نور کا حملہ کہو اندھیروں پر دیارِ درد میں آمد کہو مسیحا کی رواں دواں ہوئے خوشبوؤں کے قافلے ہر سو خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی یہ اِک کہرا سا، یہ دھند …
بے تعلقی شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقتِ رواں جو کبھی سنگِ گراں بن کے میرے سر پہ گرا راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا اشک بن کر میری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے جو کبھی خونِ جگر بن کے …
آگہی میں جب طفلِ مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھا کھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطینِ پارین و حاضر حکایاتِ شیریں و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائم جو صفحاتِ تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامر نواہی حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبے جنہیں مستمندوں نے باقی رکھا …
ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہے سوچ کے اب شرمندہ ہیں کیوں دونوں میں ناکام رہے اب تک اس کے دم سے اپنی خوش فہمی تو قائم ہے اچھا ہے جو بات میں اس کی تھوڑا سا ابہام رہے ہم نے بھی کچھ نام کیا تھا ہم کو …
سوکھے ہونٹ سُلگتی آنکھیں سرسوں جیسا رنگ برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی غیرون جیسے ڈھنگ تارہ بن کے دور افق پر کانپے لرزے ڈولے کچھ دور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ …
ایک خواہش یخ آلود ، ٹھنڈی ہوا بادلوں سے بھری شام ہو اور طوفان زدہ بحر کی تُند موجوں کی مانند آوازیں دیتے ہوئے پیڑ ہوں شہر کی سونی گلیوں میں اُڑتے ہوئے خشک پتوں پُراسرار دروازے کھلنے کی مدھم صدا ریشمی پیرہن سرسرانے کی خوشبوؤں کا شور …