گُل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی (میرزا محمد رفیع سودا)
گُل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو اِدھر بھی کیا ضد ہے خدا جانے مجھ ساتھ وگرنہ کافی ہے تسلی کو مِری ایک نظر بھی کس ہستئی موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار کچھ اپنے شب و و روز کی ہے تجھ کو …