Category «شاعری»

ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہارِ مسرّت کر بیٹھے (شکیل بدایونی)

ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہارِ مسرّت کر بیٹھے مشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھے کوشش تو بہت کی ہم نے مگر پائی نہ غمِ ہستی سے مَفَر ویرانئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے ہستی کے تلاطم میں پنہاں تھے عیش و طرب کے دھارے بھی …

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے ( محسن نقوی)

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ کبھی یہ جشن سر_ راہ گزار کرنا ہے مثال _شاخ _برہنہ …

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو (ساغر صدیقی)

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو یہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جائیں توکیا تماشا ہو بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے ہم بتائیں توکیا تماشا ہو آج ہم بھی تری وفاؤں پر مسکرائیں توکیا تماشا ہو تیری صورت جو اتفاق سے ہم بھول جائیں توکیا تماشا …

وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ (صوفی تبسم)

وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ یہ روئے درخشاں یہ زلفوں کے سائے یہ ہنگامۂ صبح و شام اللہ اللہ یہ جلووں کی تابانیوں کا تسلسل یہ ذوق نظر کا دوام اللہ اللہ وہ سہما ہوا آنسوؤں کا تلاطم وہ آب رواں بے خرام اللہ اللہ …

وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ (محمد دین تاثیر)

وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ نہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہ تری نیم کش نگاہیں ترا زیر لب تبسم یونہی اک ادائے مستی یونہی اک فریب سادہ وہ کچھ اس طرح سے آئے مجھے اس طرح سے دیکھا مری آرزو سے کم تر مری تاب سے زیادہ یہ …

یاد کی صبح ڈھل گئی شوق کی شام ہو گئی (شمیم کرہانی)

یاد کی صبح ڈھل گئی شوق کی شام ہو گئی آپ کے انتظار میں عمر تمام ہو گئی پی ہے جو ایک بوند بھی جاگ پڑی ہے زندگی ایسی شرابِ جاں فزا کیسے حرام ہو گئی ساتھ کسی نے چھوڑ کر توڑ دیا کسی کا دل چل تو پڑا تھا کارواں راہ میں شام ہو …

یہ سِتَم اور، کہ ہم پُھول کہیں خاروں کو (ناصر کاظمی)

یہ سِتَم اور، کہ ہم پُھول کہیں خاروں کو اِس سے تو آگ ہی لگ جائے سمن زاروں کو ہے عبث فکرِ تلافی تُجھے، اے جانِ وفا دُھن ہے اب اور ہی کُچھ، تیرے طلبگاروں کو تنِ تنہا ہی گُذاری ہیں اندھیری راتیں ہم نے گبھرا کے، پُکارا نہ کبھی تاروں کو ناگہاں پُھوٹ پڑے …

پِیا کے آنے کا وقت آیا ہے (سراج اورنگ آبادی)

پِیا کے آنے کا وقت آیا ہے جی کے جانے کا وقت آیا ہے نِیم بِسمِل ہُوں تیغِ ابرُو سے ! تِلمِلانے کا وقت آیا ہے شبِ خلوت میں، اُس پری رُو کو دُکھ سُنانے کا وقت آیا ہے مُلکِ وِیران کو، مِرے دِل کے ! پِھر بَسانے کا وقت آیا ہے کب تلک ہجر …

باقی نہیں ھے ایک بھی بیمارِ دردِ دِل (مرزا محمد تقی بیگ دہلوی)

باقی نہیں ھے ایک بھی بیمارِ دردِ دِل کیجیے تو کس کے سامنے اظہارِ دردِ دِل ہیں اشک میرے گوہر شہوارِ دردِ دِل آنکھیں ہیں میری دیدۂ خونبارِ دردِ دِل زندہ رہیں جہاں میں خریدارِ دردِ دِل ھے ان کے دم سے گرمی بازارِ دردِ دِل وہ ایک ایسی بزم میں ہوتے ہیں بادہ خوار …

میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو (اختر شیرانی)

آنسو میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو بن گئے شام محبت کے ستارے آنسو دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسو میری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو شمع کا عکس جھلکتا ہے جو ہر آنسو میں بن گئے بھیگی ہوئی رات کے تارے آنسو مینہ کی بوندوں کی طرح ہو …