Category «شاعری»

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے (احمد فراز)

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے جہاں تلک ترے قد کی اٹھان جاتی ہے یہ عہدِ سنگ زنی ہے سو چپ ہیں آئنہ گر کہ لب کشا ہوں تو سمجھو دکان جاتی ہے یہ مہرباں مشیت بھی ایک ماں کی طرح میں ضد کروں تو مری بات مان جاتی ہے سو کیا کریں …

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجئے (ساغر صدیقی)

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجئے تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجئے منزل نہیں ہوں خضر نہیں راہزن نہیں منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجئے میری نگاہِ شوق سے ہر گل ہے دیوتا میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیئے نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے اشکوں کی …

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا (شہریار)

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا میں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتا اس موڑ سے آگے بھی کوئی موڑ ہے ورنہ یوں میرے لیے تو کبھی ٹھہرا نہیں ہوتا کیوں میرا مقدر ہے اجالوں کی سیاہی کیوں رات کے ڈھلنے پہ سویرا نہیں ہوتا یا اتنی نہ تبدیل …

وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے (حفیظ جالندھری)

وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے مِرے خیالوں میں رنگ بھر دے  مِرے لہو کو شراب کر دے یہ خوب کیا ہے یہ زشت کیا ہے ، جہاں کی اصلی سرشت کیا ہے بڑا مزہ ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کر دے کہو تو رازِ حیات …

ہم نے تم کو پیار کیا ہے (عبدالحمید عدم)

ہم نے تم کو پیار کیا ہے اور دیوانہ وار کیا ہے پروانہ نے جل کر شاید اُلفت کا اظہار کیا ہے توڑ دیا ہے ساغر میرا یہ کیا تم نے یار کیا ہے کیوں ہم سے ناراض ہو اتنے کیا ہم نے سرکار کیا ہے کیوں کرتے ہو قطع تعلق کس نے یہ اصرار …

جھگڑا دانے پانی کا ہے دام وقفس کی بات نہیں (حفیظ جالندھری)

جھگڑا دانے پانی کا ہے دام وقفس کی بات نہیں اپنے بس کی بات نہیں، صیاد کے بس کی بات نہیں جان سے پیارے یار ہمارے قیدِ وفا سے چھوٹ گئے سارے رشتے ٹوٹ گئے اک تارِ نفس کی بات نہیں دونوں ہجر میں رو دیتے ہیں، دونوں وصل کے طالب ہیں حسن بھلا کیسے …

کہہ گئے الفراق یارانے (حفیظ جالندھری)

کہہ گئے الفراق یارانے رہ گئے ناتمام افسانے دوستی اب گلے کا ہار نہیں تار ٹوٹا بکھر گئے دانے ساقیا یہ روا روی کا ہے دور بھر دے بھر دے کچھ اور پیمانے زندگی سے نپٹ رہا ہوں ابھی موت کیا ہے مری بلا جانے ہم نے روکا حفیظ کو ورنہ اور بھی کچھ لگے …

جیتے ہیں کیسے، ایسی مثالوں کو دیکھئے (عزیز لکھنوی)

جیتے ہیں کیسے، ایسی مثالوں کو دیکھئے پردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھئے کیا دل جگر ہے چاہنے والوں کو دیکھئے میرے سکوت اپنے سوالوں کو دیکھئے اب بھی ہیں ایسے لوگ کہ جن سے سبق ملے دل مردہ ہے تو زندہ مثالوں کو دیکھئے کیا دیکھتے ہیں آپ بہارِ نمو ابھی جب ایڑیوں …

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں (حفیظ جالندھری)

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں دبی چنگاریاں سلگا رہا ہوں مِری بزمِ وفا سے جانے والو ٹھہر جاؤ کہ میں بھی آ رہا ہوں بتوں کو قول دیتا ہوں وفا کا قسم اپنے خدا کی کھا رہا ہوں ہوئی جاتی ہے کیوں بے تاب منزل مسلسل چل رہا ہوں آ رہا ہوں نئے کعبے …

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں (حفیظ جالندھری)

جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں بلا کافی نہ تھی اک زندگی کی دوبارہ یاد فرمایا گیا ہوں سپردِ خاک ہی کرنا تھا مجھ کو تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں کوئی صنعت نہیں مجھ میں تو پھر کیوں نمائش گاہ میں لایا گیا ہوں مجھے تو اس …