اہلِ علم اہلِ دولت سے افضل ہیں (حکایت سعدی)

ملک مصر میں ایک امیر کے دو بیٹے تھے ۔ ایک نے علم حاصل کیااور دوسرے نے مال و دولت اکٹھا کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علم حاصل کرنے والا بہت بڑا عالم بن گیا اور دوسرا ملک مصر کا وزیر ہو گیا ۔ -مال و دولت کا مالک بھائی عالم بھائی کو نفرت …

کسی کے حال سے بدگمان نہ ہو (حکایت سعدی)

ایک بزرگ نے ایک پارسا  سے پوچھا کہ فلاں عابدکے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے  جب کہ دوسرے تو اس کے بارے میں طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں ۔ تو اس بزرگ نے کہا نے کہا کہ مجھے تو اس میں کوئی عیب یا خامی نظر نہیں آتی  ہے ۔ لیکن میں اس …

ہر کوئی اپنی نیکی کا بدلہ پائے گا (حکایتِ سعدی)

میں دریائی سفر میں تھا اور ہماری کشتی کے ساتھ دوسری کشتی مسافروں سے لدی ہوئی تھی ۔اتفاق سے وہ کشتی پانی کے بھنور میں پھنس گئی ۔ مسافر ڈوبنے لگے ۔ کشتی میں سوار ایک بزرگ نے ملاح سے کہا کہ ان دو ڈوبتے اشخاص کو پکڑ کے لے آ میں تمہیں ہر ایک …

مشتاق احمد یوسفی

مسٹر اینڈرسن نے آخری مرتبہ بڑی دھیرج سے سوال کیا:" تم اس پیشے میں کیوں آنا چاہتے ہو ؟  میں یہ سوال تمہیں انٹرویو میں فیل کرنے کے لئے نہیں پوچھ رہا ہوں ۔ اگر یہی منشا ہوتا تو میں یہ بھی پوچھ سکتا تھا کہ بتائو اس کتے کے والد کا کیا نام ہے ؟ …

حکایتِ سعدی

ایک ظالم کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ غریب لوگوں سے جب جلانے کی لکڑی خریدتا تو انتہائی ارزاں قیمت پر ۔ لیکن بیچتے وقت وہ وہی لکڑی کافی مہنگی بیچتا تھا ۔ ایک صاحبِ دل اس کے پاس سے گزرا۔ اس کی حالت سے آگاہ ہوااور کہا کہ اے فلاں تو تو ایک سانپ …

مشتاق احمد یوسفی

  تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے  ہو؟ کوئی معقول وجہ؟ ذہن پر بتہرا زور دیا ۔  وہ اگر معقول کی پخ نہ لگاتا تو ہم ایک ہزار وجوہات گنواسکتے تھےاور اگر اس نے ہماری سچ بولنے کی عادت کو اس شدت سے نہ سراہا ہوتا تو ہم یہ جھوٹ بول کر پیچھا چھڑالیتے کہ …

مشتاق احمد یوسفی

لیکن اس سال سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ بارش اور ایسی بارش ہم نے صرف مسوری میں اپنی شادی کے دن دیکھی تھی کہ پلائو کی دیگوں میں بیٹھ کر دلھن والے آ، جا  رہے تھے،خود ہمیں ایک کفگیر پر بٹھا کر قاضی کے سامنے پیش کیا گیا ۔ پھر نہ ہم نے ایسی حرکت …

  اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے (فیض احمد فیض)

شام    اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے                                                 کوئی اجڑا ہوا بے نور پرانا مندر                                                 ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے                                                 چاک ہر بام ہر اک در کا دم آکر ہے                                                                                                 آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے                                                 جسم پر راکھ ملے …

کھول دو (سعادت حسن منٹو)

امر تسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے چلی اور آٹھ گھنٹوں  کے بعد مغل پورہ پہنچی راستے میں کئی آدمی مارے گئے متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے  صبح دس بجے کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر  جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں عورتوں اور بچوں کا ایک متلااطم  سمندر …

مشتاق احمد یوسفی

تین چار سال بعد دو تین دن کے لئے سردی کا موسم آ جائے تو اہل کراچی اس کا الزام کوئٹ ونڈ پر دھرتے ہیں اور کوئٹہ کی سردی کی شدت کو کسی سیم تن کے سترنما  سویٹر سے ناپتے ہیں کراچی کی سردی  بیوہ کی جوانی کی طرح ہوتی ہے۔  ہر ایک کی نظر پڑتی ہے اور وہیں ٹھہر بلکہ ٹھٹھر کر …