خاص اِک شان ہے یہ آپ کے دیوانوں کی (جگر مراد آبادی)

خاص اِک شان ہے یہ آپ کے دیوانوں کی دھجیاں خود بخود اڑتی ہیں گریبانوں کی سخت دشوار حفاظت تھی گریبانوں کی آبرو موت نے رکھ لی ترے دیوانوں کی رحم کر اب تو جنوں! جان پہ دیوانوں کی دھجیاں پاؤں تک آپہنچیں گریبانوں کی گرد بھی مل نہیں سکتی ترے دیوانوں کی خاک چھانا …

کیا چیز تھی، کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی (جگر مراد آبادی)

کیا چیز تھی، کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی اُف کر کے وہیں بیٹھ گیا دردِ جگر بھی یہ مجرمِ الفت ہے، تو وہ مجرمِ دیدار دل لے کے چلے ہو تو لیے جاؤ نظر بھی کیا دیکھیں گے ہم جلوہِ محبوب کہ ہم سے دیکھی نہ گئی دیکھنے والے کی نظر بھی مایوس …

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے (خمار بارہ بنکوی)

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے کیا تصور بھی لٹنے والا ہے غم تو ہے عین زندگی لیکن غم گساروں نے مار ڈالا ہے عشق مجبور و نا مراد سہی پھر بھی ظالم کا بول بالا ہے دیکھ کر برق کی پریشانی آشیاں خود ہی پھونک ڈالا ہے کتنے اشکوں کو کتنی آہوں کو …

یہ دل آویزیِ حَیات نہ ہو ( آنند نرائن ملا)

یہ دل آویزیِ حَیات نہ ہو اگرآہنگِ حادثات نہ ہو تیری ناراضگی قبُول، مگر یہ بھی کیا، بُھول کر بھی بات نہ ہو زیست میں وہ گھڑی نہ آئے، کہ جب! ہات میں میرے، تیرا ہات نہ ہو ہنسنے والے! رُلا نہ اَوروں کو صُبح تیری کسی کی رات نہ ہو عِشق بھی کام کی …

یوں تو اوروں کو بھی ہر ممکنہ نعمت دی ہے (شبنم شکیل)

یوں تو اوروں کو بھی ہر ممکنہ نعمت دی ہے دینے والے نے مُجھے کرب کی دولت دی ہے کیا نہیں یہ بھی مشیت کی وسیع القلبی مُجھ کو ہر غم کے برتنے کی اجازت دی ہے زندگی کا کوئی احسان نہیں ہے مُجھ پر میں نے دُنیا میں ہر اِک سانس کی قیمت دی …

جب آنکھیں بولنے لگتی ہیں (اعتبار ساجد)

جب آنکھیں بولنے لگتی ہیں کیا وہ ساعت آ پہنچی ہے جب سارے پل بہہ جاتے ہیں لنگر ہلتے رہ جاتے ہیں کوئی چپو ہاتھ نہیں آتا کوئی کشتی ساتھ نہیں دیتی کیا وہ ساعت آ پہنچی ہے جب لفظوں کی شریانوں میں تا ثیرنوا سو جاتی ہے جب جھوٹ کے کوڑے دانوں میں ہر …

یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں (اعتبار ساجد)

یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں میرِ خراب حال سا اپنا بھی حال کیا کریں ایسی فضا کے قہر میں، ایسی ہوا کے زہر میں زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں اور بہت سی الجھنیں طوق و رسن سے بڑھ کے ہیں ذکرِ جمال کیا کریں فکرِ وصال …

یہ رات بے نوید ہے مزید عرض کیا کریں (اعتبار ساجد)

یہ رات بے نوید ہے مزید عرض کیا کریں سحر کی کم امید ہے مزید عرض کیا کریں ان آندھیوں میں ہم اسیرِ بام ودر ہوئے، جہاں گھٹن بہت شدید ہے مزید عرض کیا کریں شکستہ ٹہنیوں پہ بھی کھلیں گے پھول خیر سے شنید ہی شنید ہے مزید عرض کیا کریں وہ فصلِ گل …

میری نگاہِ شوق سے کیسے نہاں تھے تم (اعتبار ساجد)

میری نگاہِ شوق سے کیسے نہاں تھے تم حیرت سے سوچتا ہوں کہ اب تک کہاں تھے تم اب اتنی دیر بعد تعارف کا کیا جواز؟ جب خون بن کے میری رگوں میں رواں تھے تم اس کائنات میں تھے مرے دل کی روشنی آنکھوں کے تھے چراغ، مری کہکشاں تھے تم     بچپن میں …

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی (اعتبار ساجد)

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی کہیں آگ سازشوں کی، کہیں آنچ نفرتوں کی کوئی باغ جل رہا ہے یہ مگر مری دعا ہے مرے پھول تک نہ پہنچے یہ ہوا تمازتوں کی مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی! یہ بہار بے دلی کی یہ خزاں مروتوں کی میں …