کوئی کیسا سفر ہے یہ ابھی سے مت بتاؤ (اعتبار ساجد)

کوئی کیسا سفر ہے یہ ابھی سے مت بتاؤ ابھی کیا پتہ کسی کا کہ چلی نہیں ہے ناؤ یہ ضروری تو نہیں کہ سدا رہیں مراسم یہ سفر کی دوستی ہے اسے روگ مت بناؤ مرے چارہ گر بہت ہیں یہ خلش مگر ہے دل میں کوئی ایسا ہو کہ جس کو ہوں عزیز …

شریکِ راحت و غم، گر شریکِ فن ہوتی (اعتبار ساجد)

شریکِ راحت و غم، گر شریکِ فن ہوتی تو اس قدر نہ رہِ زندگی کٹھن ہوتی نہ ہم سفر کوئی ہوتا  تو کتنا اچھا ہوتا! نہ دل میں پھانس کھٹکتی نہ یہ چبھن ہوتی یہ رات دن کی تپش یوں نہ ہم کو پگھلاتی نہ آگ دل میں بھڑکتی نہ یہ جلن ہوتی خموش رہتے …

حروف آگہی تھے بے کس و لاچار کیا کرتے (اعتبار ساجد)

حروف آگہی تھے بے کس و لاچار کیا کرتے کلاشنکوف کے آگے مرے اشعار کیا کرتے جہاں گولی سے حرفِ جسم پر اعراب لگتے ہیں وہاں منطق، دلیلیں، فلسفے، افکار کیا کرتے جنہیں اپنی پرستش سے کبھی فرصت نہیں ملتی ہم ان کے روبرو اپنا بتِ پندار کیا کرتے نصیحت کرنے والوں کو بھی خوش …

چاہتوں کے بے ثمر بے سود خوابوں میں رکھا (اعتبار ساجد)

چاہتوں کے بے ثمر بے سود خوابوں میں رکھا عمر بھر ناحق مجھے تو نے سرابوں میں رکھا کیا ملا تجھ کو میری مٹی جو کی تو نے خراب کیوں مجھے تو نے تمنا کے عذابوں میں رکھا اک ردائے وعدۃ فردا دلکش آڑ میں خواب جنت کے دکھائے اور خرابوں میں رکھا روح کو …

جدا بھی ہونے کا اندوہ سہہ نہیں سکتے (اعتبار ساجد)

جدا بھی ہونے کا اندوہ سہہ نہیں سکتے ہم ایک شہر میں اب خوش بھی رہ نہیں سکتے یہ روز وشب ہیں ہمارے کہ ایک دوسرے سے چھپائے پھرتے ہیں احوال، کہہ نہیں سکتے شکستِ ذات کا اظہار چاہتے بھی نہیں عجیب حال ہے، ہم چپ بھی رہ نہیں سکتے حقیقتوں کی چٹانیں بھی اپنی …

ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو اتنی کیا بے زاری ہے (اعتبار ساجد)

ترکِ وفا تم کیوں کرتے ہو اتنی کیا بے زاری ہے ہم نے کوئی شکایت کی ہے بے شک جان ہماری ہے تم نے خود کو بانٹ دیا ہے کیسے اتنے خانوں میں سچوں سے بھی دعا سلام ہے جھوٹوں سے بھی یاری ہے کیسا ہجر قیامت کا ہے لہو میں شعلے ناچتے ہیں آنکھیں …

ایسا نہیں ہے کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے (اعتبار ساجد)

ایسا نہیں ہے کہ تیرے بعد اہلِ کرم نہیں ملے تجھ سا نہیں ملا کوئی، لوگ تو کم نہیں ملے ایک تری جدائی کے درد کی بات اور ہے جن کو نہ سہہ سکے یہ دل، ایسے تو غم نہیں ملے تجھ سے بچھڑنے کی کتھا اس کے سوا ہے اور کیا مل نہ سکیں …

اُس نے کہا کہ مجھ سے تمہیں کتنا پیار ہے (اعتبار ساجد)

اُس نے کہا کہ مجھ سے تمہیں کتنا پیار ہے میں نے کہا ستاروں کا کوئی شمار ہے ! اُس نے کہا کہ کون تمہیں ہے بہت عزیز؟ میں نے کہا کہ دل پہ جسے اختیار ہے اُس نے کہا کہ کون سا تحفہ ہے من پسند میں نے کہا وہ شام جو اب تک …

آپس میں بات چیت کی زحمت کیے بغیر (اعتبار ساجد)

آپس میں بات چیت کی زحمت کیے بغیر بس چل رہے ہیں ساتھ شکایت کیے بغیر آنکھوں سے کر رہے ہیں بیاں اپنی کیفیت ہونٹوں سے حالِ دل کی وضاحت کیے بغیر دونوں کو اپنی اپنی انائیں عزیز ہیں لیکن کسی کو نذرِ ملامت کیے بغیر ٹھہرا ہوا ہے وقت مراسم کے درمیاں پیدا خلیج …

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے (احمد فراز)

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے غلط ہے جو سنا پر آزما کر تجھے اے بے وفا دیکھا نہ …