تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو (اعتبار ساجد)
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے زنگ اتار دو کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے …