تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو (اعتبار ساجد)

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں، مرے دل سے بوجھ اتار دو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے زنگ اتار دو کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے …

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے (میر تقی میر)

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں ان دنوں تم بہت شریر ہوئے ایک دم تھی نبود بود اپنی یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے مت مل اہلِ دوَل کے …

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا (بشیر بدر)

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا  ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہو جائے …

کتنی بدل چکی ہے رُت جذبے بھی وہ نہیں رہے (اعتبار ساجد)

کتنی بدل چکی ہے رُت جذبے بھی وہ نہیں رہے دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے محفلِ شب میں گفتگو اب کے ہوئی تو یہ کھلا باتیں بھی وہ نہیں رہیں لہجے بھی وہ نہیں رہے حلئیے بدل کے رکھ دیے جیسے شبِ فراق نے آنکھیں بھی وہ نہیں رہیں چہرے …

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں (قتیل شفائی)

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں  ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی  گونج رہی ہے …

مدتیں ہو گئی ہیں چپ رہتے (محشر کاظم حسین لکھنوی)

مدتیں ہو گئی ہیں چپ رہتے کوئی سنتا تو ہم بھی کچھ کہتے جل گیا خشک ہو کے دامنِ دل اشک آنکھوں سے اور کیا بہتے بات کی اور منہ کو آیا جگر اس سے بہتر یہی تھا چپ رہتے ہم کو جلدی نے موت کی مارا اور جیتے تو اور غم سہتے سب ہی …

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی (مسرور انور)

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کا سامنے نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی نفتروں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی …

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے (احمد فراز)

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے کس کو سیراب کرے وہ کسی پیاسا رکھے عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے دل بھی پاگل …

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا (نصیر ترابی)

ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا یہ راہِ تمنا ہے یہاں دیکھ کے چلنا اس راہ میں سر ملتے ہیں پتھر نہیں ملتا ہم رنگِ موسم کے طلب گار نہ ہوتے سایا بھی تو قامت کے برابر نہیں ملتا کہنے کو غمِ …

وہ دشمنِ جاں، جاں سے پیارا بھی کبھی تھا (احمد فراز)

وہ دشمنِ جاں، جاں سے پیارا بھی کبھی تھا اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا اترا ہے رگ و پے میں تو دل کٹ سا گیا ہے یہ زہرِ جدائی گوارا بھی کبھی تھا ہر دوست جہاں ابرِ گریزاں کی طرح ہے یہ شہر، یہی شہر ہمارا بھی کبھی تھا تتلی کے …