مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم (قتیل شفائی)

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم جب دوریوں کی آگ دل کو جلائے گی جسموں کو چاندنی میں بھگویا کریں گے ہم بن کر ہر ایک …

یہ اور بات تجھ سے گلا نہیں کرتے (امجد اسلام امجد)

یہ اور بات تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دیئے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا ترے اسیر کسے کے ہوا نہیں کرتے یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے وفا کی آنچ سخن کا تپاک دو …

چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے (پروین شاکر)

چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے مجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے بھی مگر اب کہ یہ زخم نیا ہو جیسے میرے ماتھے پہ ترے پیار کا ہاتھ روح پر دستِ صبا ہو جیسے یوں بہت ہنس کے ملا تھا لیکن دل ہی دل میں وہ خفا ہو …

اسی طلسمِ شب ماہ میں گزر جائے (اعتبار ساجد)

اسی طلسمِ شب ماہ میں گزر جائے اب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائے عجب نشہ ہے ترے قرب میں کہ جی چاہے یہ زندگی تری آغوش میں گزر جائے میں تیرے جسم میں کچھ اس طرح سما جاؤں کہ تیرا لمس مری روح میں اتر جائے مثالِ برگِ خزاں ہے ہوا کی زد …

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے (پروین شاکر)

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے رستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر شہرِ نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے وہ نہ …

ہوا مہک اٹھی رنگِ چمن بدلنے لگا (پروین شاکر)

ہوا مہک اٹھی رنگِ چمن بدلنے لگا وہ میرے سامنے جب پیرہن بدلنے لگا بہم ہوتے ہیں تو اب گفتگو نہیں ہوتی بیان حال میں طرزِ سخن بدلنے لگا اندھیرے میں بھی مجھے جگمگا گیا ہے کوئی بس اک نگاہ سے رنگِ بدن بدلنے لگا ذرا سی دیر کو بارش رکی تھی شاخوں پر       مزاجِ …

چراغِ راہ بجھا کیا کہ راہنما بھی گیا (پروین شاکر)

چراغِ راہ بجھا کیا کہ راہنما بھی گیا ہوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا بہت عزیز سہی اس کو میری دلداری مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا اب ان دریچوں …

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی (پروین شاکر)

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی پر میں کیا کرتی کہ زنجیر تیرے نام کی تھی جس کے ماتھے پہ مرے بخت کا تارہ چمکا چاند کے ڈوبنے کی بات اسی شام کی تھی میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا ورنہ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی مرے کس کام کی تھی …

!ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا (پروین شاکر)

!ٹوٹی  ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا !بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ  صبا گھومتے رہو کٹ جائیں کسی کی سوچ کے پر تم کو اس سے کیا  اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس …

یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا (ظفر اقبال)

یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا غزال اشک سرِ صبح دوبِ مژگاں پر                                کب اپنی آنکھ کھلی اور لہو لہو نہ ملا چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میں نگارِ غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا انہی …