ریشم زلفوں ،نیلم آنکھوں والے اچھے لگتے ہیں (محسن نقوی)

ریشم زلفوں ،نیلم آنکھوں والے اچھے لگتے ہیں میں شاعر ہوں مجھ کو اجلے چہرے اچھے لگتے ہیں تم خود سوچو، آدھی رات کو ٹھنڈے چاند کی چھاؤں میں تنہا راہوں پر ہم دونوں کتنے اچھے لگتے ہیں آخر آخر سچے قول بھی چبھتے ہیں دل والوں کو پہلے پہلے پیار کے جھوٹے وعدے اچھے …

منسوب تھے جو لوگ مری زندگی کے ساتھ (محسن نقوی)

منسوب تھے جو لوگ مری زندگی کے ساتھ اکثر وہی ملے ہیں بڑی بے رخی کے ساتھ یوں تو میں ہنس پڑا ہوں تمہارے لیے مگر کتنے ستارے ٹوٹ پڑے اک ہنسی کے ساتھ فرصت ملے تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے اے دوست یوں نہ کھیل مری بے بسی کے ساتھ مجبوریوں کی بات …

یہ عجیب فصلِ فراق ہے (محسن نقوی)

یہ عجیب فصلِ فراق ہے !یہ عجیب فصلِ فراق ہے کہ نہ لب پہ حرفِ طلب کوئی نہ اداسیوں کا سبب کوئی نہ ہجومِ درد کے شوق میں! کوئی زخم اب کے ہرا ہوا نہ کماں بدست عدو ہوئے نہ ملامت صف دوستاں پہ یہ دل کسی سے خفا ہوا کوئی تار اپنے لباس کا …

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں (محسن نقوی)

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے جب دل میں داغ چمکتے تھے جب پلکیں شہر کے رستوں میں اشکوں کا نور لٹاتی تھیں جب سانسیں اجلے چہروں کی تن من میں پھول سجاتی تھیں جب چاند کی رم جھم کرنوں سے سوچوں میں بھنر پڑ جاتے تھے جب ایک …

وہ شاخِ مہتاب کٹ چکی ہے (محسن نقوی)

وہ شاخِ مہتاب کٹ چکی ہے  بہت دنوں سے وہ شاخِ مہتاب کٹ چکی ہے جس پہ تم نے گرفتِ وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے بہت دنوں سے وہ  دردِ احساس چھٹ چکی ہے کہ جس کے ذروں پہ تم نے پلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھے! اور …

زمانے بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے (محسن نقوی)

زمانے بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے وہ اجنبی ہے مگر مجھ کو آشنا سا لگے نجانے کب مری دنیا میں مسکرائے گا وہ ایک اجنبی کہ خوابوں میں بھی خفا سا لگے عجیب چیز ہے یارو یہ منزلوں کی ہوس کہ راہزن بھی مسافر کو رہنما سا لگے دلِ تباہ! ترا مشورہ …

اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر (محسن نقوی)

اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر کچھ جلتے بجھتے لمحوں کے یاقوت پگھلتے رہتے ہیں اب اپنی گم سم آنکھوں میں کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی کچھ گرد آلود سے موسم ہیں اب دھوپ اگلتی سوچوں میں کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں اب اپنے ویراں آنگن میں جتنی صبحوں کی چاندی ہے جتنی شاموں کا …

یا بارشِ سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئی تھی (محسن نقوی)

یا بارشِ سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئی تھی یا پھر میں ترے شہر کی رہ بھول گیا تھا اک جلوۃ محجوب سے روشن تھا مرا ذہن وجدان یہ کہتا ہے وہی میرا خدا تھا ویران نہ ہو اس درجہ کوئی موسمِ گل بھی کہتے ہیں کسی شاخ پہ اک پھول کھلا تھا اک تو …

چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ (محسن نقوی)

چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ میں بھی اڑتا رہا اک لمحہِ بے خواب کے ساتھ کس میں ہمت ہے کہ بدنام ہو سائے کی طرح کون آوارہ پھرے جاگتے مہتاب کے ساتھ آج کچھ زخم نیا لہجہ بدل کر آئے آج کچھ لوگ نئے مل گئے احباب کے ساتھ سینکڑوں ابر اندھیرے …