اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے کٹ گیا (امید فاضلی)

اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے کٹ گیا پتھر خدا بنا تو چٹانوں سے کٹ گیا پھینکا تھکن نے جال تو کیوں کر کٹے گی رات دن تو بلندیوں میں اڑانوں سے کٹ گیا وہ سر کہ جس میں عشق کا سودا تھا کل تلک اب سوچتا ہوں کیا مرے شانوں سے کٹ گیا پھرتے …

ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی (اقبال اشعر)

ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑے دیکھا آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی مدتوں بعد چلا ان پہ ہمارا جادو مدتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی مدتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے مدتوں بعد ہمیں پیاس چھپانی آئی …

گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے (پرنم الہ آبادی)

گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے دن ہوتے ہوئے دھوپ نکلنے نہیں دیتے آنچل میں چھپا لیتے ہیں شمعِ رُخِ روشن پروانے تو جل جائیں وہ جلنے نہیں دیتے بکھرادی وہیں زُلف ذرا رُخ سے جو سرکی کیا رات ڈھلے رات وہ ڈھلنے نہیں دیتے کس درجہ ہیں بے درد تیرے ہجر کے …

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا (پرنم الہ آبادی)

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رُخ نے آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا کیا چھیڑ ہے آنچل سے گلستاں میں صبا کی ان سے رُخِ روشن کو …

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی (پرنم الہ آبادی)

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں اکر تو دیکھو تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے مگر ایک بار ازما کر تو دیکھو زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا ہمیں بھی تم اپنا …

چہرے پہ ذرا زلف کو بکھراؤ کسی دن (پرنم الہ آبادی)

چہرے پہ ذرا زلف کو بکھراؤ کسی دن منظر سحر وشام کا دکھلاؤ کسی دن پھر زلف کی خوشبو سے مہک جائے گلستاں زلفوں کو ہواؤں میں لہراؤ کسی دن سورج کو گھٹاؤں سے نکلتے ہوئے دیکھوں گیسو رُخِ روشن سے جو سرکاؤ کسی دن رُخسار پہ بوندیں ہوں پسینے کی تمہارے یوں شبنمی پھولوں …

جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے (بشیر بدر)

جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے یادوں کے دریچوں میں چلمن سی سرکتی ہے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تری شب بھر سینے میں سلگتی ہے یوں پیار نہیں چھپتا پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں میں تحریر  چمکتی ہے خوش رنگ پرندوں کے لوٹ آنے کے …

ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں (گلزار)

ترے عشق میں ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں راکھ سے روکھی، کوئل سے اکلی رات کٹے نہ ہجراں والی ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں تری جستجو کرتے رہے مرتے رہے ترے عشق میں ترے روبرو بیٹھے ہوئے مرتے رہے ترے عشق میں تیرے روبرو تیری جستجو ترے عشق میں ہائے! ترے …

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے (میر درد)

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے تجھ سِوا بھی جہان میں کچھ ہے دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے لے خبر ، تیغِ یار کہتی ہے باقی اس نیم جان میں کچھ ہے ان دنوں کچھ عجب حال ہے میرا دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں …

ہم تجھ سے کس ہوس پہ فلک جستجو کریں (میر درد)

ہم تجھ سے کس ہوس پہ فلک جستجو کریں دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں سرتا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم پر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں ہر چند آئینہ ہوں پر اتنا …