ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہارِ مسرّت کر بیٹھے (شکیل بدایونی)
ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہارِ مسرّت کر بیٹھے مشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھے کوشش تو بہت کی ہم نے مگر پائی نہ غمِ ہستی سے مَفَر ویرانئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے ہستی کے تلاطم میں پنہاں تھے عیش و طرب کے دھارے بھی …