Category «امجد اسلام امجد»

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ (امجد اسلام امجد)

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ، فسانے ہو جاتے ہیں آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں، خواب پرانے ہو جاتے ہیں ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے میل دلوں میں آجائے تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں منظر منظر کھل اٹھتی ہے پیراہن کی قوس و قزح موسم تیرے ہنس پڑنے سے …

یہ اور بات ہے تجھ سے گلہ نہیں کرتے (امجد اسلام امجد)

یہ اور بات ہے تجھ سے گلہ نہیں کرتے جو زخم تو نے دیئے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لئے گھومتی پھرے دنیا ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے وفا کی آنچ سخن کا تپاک …

زمانے کے سب موسموں سے نرالے (امجد اسلام امجد)

محبت کے موسم زمانے کے سب موسموں سے نرالے بہار و خزاں ان کی سب سے جدا الگ ان کا سوکھا ، الگ ہے گھٹا محبت کے خطے کی آب و ہوا ماوراء ، ان عناصر سے جو موسموں کے تغیر کی بنیاد ہیں یہ زمان و مکاں کے کم و بیش سے ایسے آزاد …

کیا کیا ہمارے خواب تھے، جانے کہاں پہ کھو گئے (امجد اسلام امجد)

کیا کیا ہمارے خواب تھے، جانے کہاں پہ کھو گئے تم بھی کسی کے ساتھ ہو، ہم بھی کسی کے ہو گئے جانے وہ کیوں تھے، کون تھے، آئے تھے کس لئے یہاں وہ جو فشارِ وقت میں، بوجھ سا ایک ڈھو گئے اس کی نظر نے یوں کیا گردِ ملالِ جاں کو صاف ابر …

کوئی موسم ہو، دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم (امجد اسلام امجد)

کوئی موسم ہو، دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمہارے بعد کا موسم نہیں تو آزما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے تمہارے مسکرانے سے دلِ ناشاد کا موسم صدا تیشے سسے جو نکلی، دلِ شیریں سے اٹھی تھی چمن خسرو کا تھا مگر رہا فرہاد کا موسم پرندوں …

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں (امجد اسلام امجد)

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت ہم ہی آشوبِ بال وپر میں ہیں زندگی کے تمام تر رستے موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں جس قدر خواہشِ سفر میں ہیں سیپ …

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی (امجد اسلام امجد)

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی بام و در پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں خشک ہونٹوں پر لرزتی اک دعا رہ جائے گی رو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے ہم نہیں ہوں گے تو دنیا گردِ پا رہ …

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے (امجد اسلام امجد)

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے نہ یہ سمجھو کہ اس کو غم نہیں ہے سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے سمجھ میں نہیں آتا کسی کی اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے یہ بستی ہے ستم …

عشق کے علاقے میں (امجد اسلام امجد)

عشق کے علاقے میں حُکمِ یار چلتا ھے ضابطے نہیں چلتے حُسن کی عدالت میں عاجزی تو چلتی ھے مرتبے نہیں چلتے دوستی کے رشتوں کی پرورش ضروری ھے سِلسلے تعلق کے خود سے بن تو جاتے ھیں لیکن اِن شگوفوں کو ٹُوٹنے بکھرنے سے روکنا بھی پڑتا ھے چاھتوں کی مٹی کو آرزو کے …

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے (امجد اسلام امجد)

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے. تمہیں نکال کہ دیکھا تو سب خسارہ ہے. کس چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں تم. کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے. وہ کیا وصل کا لمحہ تھا جس کے نشے میں. تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارہ ہے. ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے. …