شمعِ مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا (بیخود دہلوی)
شمعِ مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا تم جس پہ رو رہے تھے وہ کس کا مزار تھا تڑپوں گا عمر بھر دلِ مرحوم کے لیے کم بخت ، نامراد لڑکپن کا یار تھا سودائے عشق اور ہے ، وحشت کچھ اور ہے مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا جادو ہے …