Category «شاعری»

ہم ہی میں کوئی بات نہ تھی یاد تم کو آ نہ سکے (حفیظ جالندھری)

ہم ہی میں کوئی بات نہ تھی یاد تم کو آ نہ سکے تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا  سکے تم ہی نہ سن سکے اگر قصئہ غم سنے گا کون کس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے عجز سےا ور بڑھ گئی برہمئی مزاجِ دوست اب وہ …

اب شدتِ غم میں مصنوعی آرام سہارا دیتا ہے (عبدالحمید عدم)

اب شدتِ غم میں مصنوعی آرام سہارا دیتا ہے یا دوست تسلی دیتے ہیں یا جام سہارا دیتا ہے اے دوست محبت کے صدمے تنہا ہی اٹھانے پڑتے ہیں رہبر تو فقط اس رستے میں دو گام سہارا دیتا ہے دو نام ہیں صرف اس دنیا میں، اِک ساقی کا، اِک یزداں کا اک نام …

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے (عبد الحمید عدم)

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے دل کی آہٹ سے تِری اواز آتی ہے مجھے جھاڑ کر گردِ غمِ ہستی کو اڑ جاؤں گا میں بےخبر ایسی بھی اک پرواز اتی ہے مجھے یا سماعت کا بھرم ہے یا کسی نغمے کی گونج ایک پہچانی ہوئی اواز آتی ہے مجھے کس نے …

بدلے بدلے مِرے غم خوار نظر آتے ہیں (شکیل بدایونی)

بدلے بدلے مِرے غم خوار نظر آتے ہیں مرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں کشتئی غیرتِ احساس سلامت یا رب ! آج طوفان کے آثار نظر آتے ہیں جو سنا کرتے تھے ہنس ہنس کے مرا نغمئہ وشق اب مِری شکل سے بیزار نظر آتے ہیں ان کے آگے جو جھکی رہتی ہیں نظریں …

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا (شکیل بدایونی)

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا حکم ادم کو ہے جنت سے نکل جانے کا ان سے کچھ کہہ تو رہا ہوں مگر اللہ کرے وہ بھی مفہوم نہ سمجھیں مِرے افسانے کا دیکھنا دیکھنا یہ حضرتِ واعظ ہی نہ ہوں راستہ پوچھ رہا ہے کوئی مے خانے کا بے تعلق ترے آگے سے …

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے (شکیل بدایونی)

کوئی آرزو نہیں ہے  کوئی مدعا نہیں ہے تِرا غم رہے سلامت مِرے دل میں کیا نہیں ہے کہاں جامِ غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں مجھے وہ دوا ملی ہے جو مِری دوا نہیں ہے تمھیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں کا مجھے تم معاف کر دو مِرا دل برا نہیں …

لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے (شکیل بدایونی)

لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے محبت آئینہ ہو چکی تھی وجودِ بزمِ جہاں سے پہلے ہر ایک عنوان دردِ فرقت ہے ابتدا شرحِ مدعا کی کوئی بتائے کہ یہ فسانہ سنائیں ان کو کہاں سے پہلے اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تابِ ضبط باقی تمام مے …

مِری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں (شکیل بدایونی)

مِری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں انھیں اعتبارِ وفا تو ہے مجھے اعتبارِ ستم نہیں وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم …

مِری زندگی ہے ظالم تِرے غم سے آشکارا (شکیل بدایونی)

مِری زندگی ہے ظالم تِرے غم سے آشکارا تِرا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیارا وہ اگر برا نہ مانیں تو جہانِ رنگ و بو میں میں سکونِ دل کی خاطر کوئی ڈھونڈ لوں سہارا مجھے تجھ سے خاص نسبت، میں رہینِ موجِ دریا جنہیں زندگی تھی پیارے انہیں مِل گیا کنارہ میں …

ہوا سنکے تو خاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے (عبد الحمید عدم)

ہوا سنکے تو خاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے مِرے غم کی بہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے نہ چھیڑ اے ہم نشیں اب زیست کے مایوس نغموں کو کہ اب بربط کے تاروں کوبڑی تکلیف ہوتی ہے مجھے اے کثرتِ آلام ! بس اتنی شکایت ہے کہ میرے غم گساروں کو بڑی تکلیف ہوتی …