غزل (مرزا غالب)
بازیچئہ اطفال ہے دنیا مِرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مِرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مِرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مِرا کام مجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مِرے اگے گو ہاتھ میں جنبش نہیں …
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
بازیچئہ اطفال ہے دنیا مِرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مِرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مِرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مِرا کام مجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مِرے اگے گو ہاتھ میں جنبش نہیں …
ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا منظر ایک بلنددی پر اور ہم بنا سکتے عرش سے اُدھر ہوتا کاش کہ مکاں اپنا دردِ دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دِکھلاؤں انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا تا کرے نہ غمازی کر لِیا ہے …
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک کون جیتا ہے تِری زلف کے سر ہونے تک دامِ ہر موج میں ہے حلقئہ صد کام نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک ہم نے مانا کہ …
ختم ہوئی بارشِ سنگ ناگہاں آج مرے تارِ نظر سے کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمر اب کسی سمت اندھیرا نہ اجالا ہو گا بجُھ گئی دل کی طرح راہِ وفا میرے بعد دوستو! قافلئہ درد کا اب کیا ہو گا اب کوئی اور کرے پرورشِ گلشنِ غم دوستو ختم ہوئی …
قیدِ تنہائی دور آفاق پہ لہرائی کوئی نور کی لہر خواب ہی خواب میں بیدار ہوا درد کا شہر خواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگی عدم آبادِ جدائی میں سحر ہونے لگی کاسئہ دل میں بھری اپنی صبوحی میں نے گھول کر تلخئی دیروز میں امروز کا زہر دور آفاق پہ لہرائی کوئی …
منظر رہ گزر، سائے، شجر، منزل ودر، حلقئہ بام بام پر سینئہ مہتام کھلا، آہستہ جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ حلقئہ بام تلے ، سایوں کا ٹھہرا ہوا نیل نیل کی جھیل جھیل میں چپکے سے تیرا، کسی پتے کا حباب ایک پل تیرا، چلا ، پھوٹ گیا، آہستہ بہت اہستہ، بہت ہلکا، …
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۃ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے امید یار نظر کا مزاج درد کا رنگ تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے میخانوں کی رونق ہیں کبھی خانقہوں کی اپنا ہوس والوں نے جو رسم …
سراب جسم کی نورس کلی میں ایک احساسِ جمال جیسے ٹھنڈک چھاؤں کی دل کی نازک دھڑکن میں ایک نادیدہ خیال جیسے آہٹ پاؤں کی رات کی تاریکیوں میں ضوفگن شمعِ وصال جیسے کھُل کر پو پھٹے اور پھر تنہائیوں میں خود فروشی کا ملال زندگی کیسے کٹے؟
بھروسہ ایک پتنگا تنہا تنہا! شام ڈھلے اس فکر میں تھا یہ تنہائی کیسے کٹے گی رات ہوئی اور شمع جلی مغموم پتنگا جھوم اٹھا ہنستے ہنستے رات کٹے گی صبح ہوئی اور سب نے دیکھا راکھ پتنگے کی اڑ اڑ کر شمع کو ہر سو ڈھونڈ رہی تھی
شگفتہ دل ہیں کہ غم عطا بہار کی ہے گلِ حباب ہیں سر میں ہوا بہار کی ہے ہجومِ جلوۃ گل پر نظر نہ رکھ کہ یہاں جراحتوں کے چمن میں ردا بہار کی ہے کوئی تو لالئہ خونیں کفن سے بھی پوچھے یہ فصلِ چاک جگر کی ہے یا بہار کی ہے میں تیرا …