ترے خط آنے سے دل کو مرے آرام کیا ہو گا (میرزا محمد رفیع سودا)
ترے خط آنے سے دل کو مرے آرام کیا ہو گا خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ غربت میں زیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا مگر لائق نہیں اس دور میں ہم بادہ خواری کے جو دیوے گا …